ایران:شمالی تہران کی جیل میں قیدیوں کی ہنگامہ آرائی، عمارت کو آگ لگا دی گئی

Share

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع اوین جیل میں ہفتے کی رات قیدیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے مابین جھڑپیں ہوئیں اور عمارت سے آگ کے شعلے نکلتے دکھائی دیئے ، تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صورت حال کنٹرول میں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی تہران میں واقع اوین جیل میں سیاسی اورغیر ملکی قیدیوں کو بھی رکھا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ مہسا امینی کی موت کے بعد مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے سینکڑوں افراد کو بھی مبینہ طور پر اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی رات جیل سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔ اوسلو میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ویڈیو فوٹیج میں گولیاں چلنے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔پولیس کی طرف سے قانون کی خلاف ورزی اور احتجاج پر نظر رکھنے والے سوشل میڈیا چینل ’1500 تصویر‘ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’اوین جیل میں آگ پھیل رہی ہے اور دھماکے کی آواز سنی گئی۔‘ اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے متعدد ویڈیوز شیئر کی گئیں، تاہم ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکی

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق : ’اس وقت صورت حال کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا چکا ہے اور جیل میں ہونے والے ہنگامے میں کم از کم 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اوین جیل میں قید غیر ملکی قیدیوں میں ایرانی نژاد فرانسیسی ماہر تعلیم فریبہ عدل خوا اور امریکی شہری سیامک نمازی بھی شامل ہیں، جن کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ انہیں عارضی رہائی کے بعد اس ہفتے دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔جیل میں آگ لگنے کی اطلاعات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نمازی کے خاندان کے وکیل نے ایک بیان اے ایف پی کے ساتھ شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ ’اہل خانہ کو گہری تشویش ہے اور ان کا نمازی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘انہوں نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ نمازی کو اہل خانہ کے ساتھ رابطے کے لیے فوری طور پر سہولت فراہم کریں اور انہیں جیل سے عارضی رخصت دی جائے کیوں کہ وہ اوین جیل میں واضح طور پر محفوظ نہیں ہیں۔اوین جیل میں قید امریکی کاروباری شخصیت عماد شرقی کی بہن نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ان کا خاندان واقعے کے بارے میں جان کر سخت پریشان ہے۔دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اوین جیل میں پیش آنے والے واقعے کو ہنگامی طور پر دیکھ رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar