
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا۔چیئرمین نور عالم خان کی زیرِ صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت آبی وسائل کی آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا جائزہ لیا گیا۔کیٹمی نے ڈیمز کی تعمیر سمیت 5 منصوبوں کے فرانزک آڈٹ کی ہدایت کی۔ نور عالم خان نے بتایا کہ بھاشا ڈیم، داسو، مہمند، نیلم جہلم اور کے فور کراچی منصوبہ شامل ہے۔آڈٹ حکام کے مطابق 2016-17 میں 22 ارب 88 کروڑ روپے لاگت کے 3 ٹھیکے دیے گئے، کام شروع ہونے سے پہلے ٹھیکیداروں کو 4 ارب 58 کروڑ کی ایڈوانس رقم دی گئی، ایڈوانس ادائیگی کے بعد 5 سال گزرنے کے باوجود کام شروع نہ ہو سکا۔اجلاس میں وزارت آبی وسائل نے بتایا کہ فنڈز کے اجرا کے لیے عالمی بینک کی ٹائم لائن پر عمل کیا گیا۔ اس پر پی اے سی نے سخت اظہارِ برہمی کیا اور ذمہ داری کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی کے رکن برجیس طاہر نے اجلاس میں کہا کہ ورلڈ بینک کی نمائندگی کے بجائے عوامی مفاد کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔مزید برآں اجلاس میں وزارت آبی وسائل کے منصوبوں پر 114 افراد کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کا انکشاف ہوا جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بھرتی کیے گئے افراد کو لاکھوں روپے تنخواہ دی جا رہی ہے۔پی اے سی نے ان افراد کو خزانے پر بوجھ قرار دے کر فوری ہٹانے کی ہدایت کر دی۔ نور عالم خان نے کہا کہ کوئی سفارش نہ مانی جائے اور ان افراد کو نوکری سے ہٹایا جائے، ضروری افراد کا مناسب جگہ پر تبادلہ کیا جائے۔چیئرمین پی اے سی نے بھرتیوں کی نشاندہی نہ کرنے پر آڈیٹر جنرل آفس پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کر کے ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔