
لاہور ہائی کورٹ میں وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے، گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے حکم اور نوٹیفکیشن کے خلاف پرویز الہٰی کی جانب سے پٹیشن دائر کر دی گئی۔پرویز الہٰی کی درخواست میں گورنر پنجاب کو بذریعہ پرنسپل سیکریٹری اور چیف سیکریٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔تیار کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیکر کو وزیرِ اعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کے لیے اجلاس بلانے کا کہا تھادرخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس پہلے سے چل رہا ہے، اس لیے اسپیکر نے نیا اجلاس نہیں بلایا۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اسپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے۔درخواست میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسپیکر کے کسی اقدام پر وزیرِ اعلیٰ کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی، عدالت گورنر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔ واضح رہے کہ گزشتہ شب گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔گورنر پنجاب کے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی نے آئین کے آرٹیکل 130(7) کے تحت جاری آرڈر میں مقررہ دن اور وقت پر اعتماد کا ووٹ لینے سے گریز کیا اس لیے انہیں ڈی نوٹیفائی کیا جاتا ہے، جبکہ اس آرڈر کے تحت پنجا ب کابینہ بھی تحلیل کی جاتی ہےگورنر پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یقین ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو اراکینِ اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔نوٹیفکیشن کے بعد پنجاب کابینہ ختم ہو گئی، تاہم نوٹیفکیشن کے مطابق نئے وزیرِ اعلیٰ کے آنے تک پرویز الہیٰ بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کام کرتے رہیں گے