

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے میڈیا سے متعلق نیا قانون منظورکرلیا۔قانون کے تحت صحافیوں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو ‘غلط معلومات’ پھیلانے پر 3 برس تک قید ہوسکتی ہے۔قانون کی دفعہ 29 آزادی اظہار کے تعلق سے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ‘جو لوگ خوف پیدا کرنے اور امن عامہ کو خراب کرنے’ کے مقصد سے ترکیہ کی سکیورٹی کے بارے میں آن لائن غلط معلومات پھیلائیں گے انہیں ایک سے تین برس تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔صدر اردوان کی حکمراں جماعت اے کے پارٹی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور جھوٹے الزامات کو روکنے کیلئے قوانین کی ضرورت ہے۔اب بل کو حتمی منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجا جائے گا۔جبکہ حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ،یورپی ممالک اور میڈیا کے حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکنوں نے اسے کالا قانون قرار دیتے ہوئے اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے