فضا میں 6 میل بلندی پر بم دھماکے سے تباہ ہونے والے جہاز میں سوار ایئر ہوسٹس آخر کیسے زندہ بچ گئی؟؟

Share

یہ 26 جنوری 1972 کا. دن تھا جب وسنا وولوک نامی ایک ائیر ہوسٹس یوگوسلاویہ ائیرلائنز کی پرواز 367 میں موجود تھیں۔یہ پرواز سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم سے سربیا کے شہر بلغراد جارہی تھی اور جس وقت طیارہ چیکوسلاوکیہ کی فضا سے گزر رہا تھا، اس وقت اچانک دھماکے سے وہ 3 ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔اس دھماکے اور طیارے کے حادثے کے نتیجے میں پرواز میں موجود ہر فرد ہلاک ہوگیا مگر کرشماتی طور پر وسنا وولوک 33 ہزار 333 فٹ (6.13 میل) کی بلندی سے نیچے گر کر بھی بچ گئیں۔50 سال بعد بھی یہ بغیر پیراشوٹ سب سے زیادہ بلندی سے گر کر بچنے کا عالمی ریکارڈ ہے۔اس پرواز نے اسٹاک ہوم اور بلغراد کے درمیان 2 جگہوں پر رکنا تھا، پہلا اسٹاپ ڈنمارک کا شہر کوپن ہیگن تھا جہاں سے وسنا اور عملے کے دیگر افراد سوار ہوئے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وسنا کے شیڈول کے مطابق اسے اس بدقسمت پرواز کے عملے میں شامل نہیں ہونا تھا۔2002 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک اور ائیرہوسٹس کا نام وسنا تھا اور فضائی کمپنی نے غلطی سے اس کی جگہ انہیں پرواز میں بھیج دیا۔اس وقت وسنا کی عمر 23 سال تھی۔کوپن ہیگن سے پرواز کے 46 منٹ بعد سامان رکھنے والے حصے میں دھماکا ہوا جس کے بعد طیارہ 3 حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ایسا ہونے کے بعد مسافر اور عملے کے دیگر افراد ممکنہ طور پر ہوا کے دباؤ کے باعث اڑتے ہوئے طیارے سے باہر جاگرے جہاں فضا میں درجہ حرارت بہت کم تھا اور موت کے منہ میں چلے گئے۔مگر وسنا کے بچنے میں کھانے کی ایک ٹرالی کا کردار اہم مانا جاتا ہے جو طیارے کے مرکزی حصے کے آخری کونے میں موجود تھی۔یہ ٹرالی طیارے کے باقی حصوں سے الگ ہوکر زمین کی جانب گئی جس کے اوپر وسنا موجود تھیں۔چیکو سلاوکیہ کے گاؤں Srbská Kamenice کی برف سے ڈھکی زمین پر یہ ٹرالی ایسے زاویے سے گری جس نے ائیر ہوسٹس کی زندگی بچانے میں ممکنہ کردار ادا کیا۔مزید براں وسنا لو بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں اور طیارے کے کیبن کا پریشر ختم ہونے کے بعد وہ فوری بے ہوش ہوگئیں، اس طرح ہوا کے دباؤ سے دل کو پھٹنے سے روکنے میں اس بیماری نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ائیرہوسٹس کو دوسری عالمی جنگ کے دوران فوجیوں کو طبی امداد فراہم کرنے والے ایک مقامی دیہاتی برونو ہونکے نے طیارے کے ملبے کے اندر چیختے ہوئے دریافت کیا۔طبی امداد دینے کی مہارت کے باعث برونو ہونکے نے وسنا کو امدادی عملے کی آمد سے قبل ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی، جس سے بھی ان کی زندگی بچانے میں مدد ملی۔اگرچہ وسنا اتنی بلندی سے گر کر بچ تو گئی تھیں مگر وہ بہت بری طرح زخمی ہوئیں اور کافی دن تک کوما میں رہیں۔کھوپڑی میں فریکچر کے ساتھ دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں اور بھی متعدد پسلیاں اور ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں جس کے باعث ان کے جسم کا نچلا حصہ عارضی طور پر مفلوج ہوگیا تھا۔مگر حیران کن طور پر 10 ماہ بعد وہ دوبارہ چلنے کے قابل ہوگئیں مگر ریڑھ کی ہڈی میں مستقل نقص آگیا تھا۔کرشماتی طور پر بچ جانے کے بعد وسنا وولوک کو یوگو سلاویہ میں قومی آئیکون سمجھا جانے لگا اور ان کے اعزاز میں ایک گانا بھی تحریر کیا گیا۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی 1985 میں ہونے والی ہال آف فیم تقریب میں وسنا کو بغیر پیراشوٹ سب سے زیادہ بلندی سے گر کر بچنے کے ریکارڈ کا سرٹیفکیٹ اور میڈل دیا گیا۔چیکو سلاوکیہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق طیارے میں دھماکا ایک بریف کیس میں رکھے بم کے باعث ہوا تھا اور سوئیڈن میں ایک اخبار کے دفتر میں ایک شخص نے فون کرکے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔مگر اس واقعے میں کبھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔وسنا کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا سرٹیفکیٹ اور میڈل دیا جارہا ہے / فوٹو بشکریہ گنیز ورلڈ ریکارڈزوسنا کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا سرٹیفکیٹ اور میڈل دیا جارہا ہے / فوٹو بشکریہ گنیز ورلڈ ریکارڈززخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد وسنا نے دوبارہ اسی فضائی کمپنی میں کام کرنا شروع کردیا مگر اس بار انہیں ڈیسک جاب دی گئی اور وہ وہاں 1990 کی دہائی تک کام کرتی رہیں۔دسمبر 2016 کو 66 سال کی عمر میں وسنا کا انتقال ہوا مگر اب بھی کرشماتی طور پر بچنے کی داستان کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ان کا ریکارڈ بھی 50 سال سے برقرار ہے بلکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے تو اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یہ برقرار رہے اور کبھی کسی کو اس طرح کے تجربے کا سامنا نہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar