ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 2.5 ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کی منظوری دیدی

Share

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کی منظوری دیدی، تقریباً ایک ٹن وزنی چالیس ہزار بم بھی ان امریکی ہتھیاروں میں شامل ہوں گے۔یہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فروخت کی جانے والی سب سے بڑی کھیپ میں سے ایک ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے بیچے جانیوالے نصف بم ایم کے ایٹی فور ہیمر ہیں جو کہ مغربی اسلحہ میں سب سے زیادہ تباہ کن تصور کیے جاتے ہیں جبکہ دیگر نصف بی ایل یو ایک سو سترہ بنکر بسٹر بم ہیں۔ سن دو ہزار تئیس میں اسرائیل نے اس نوعیت کے بم غزہ میں عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیے تھے اور ان سے چالیس فٹ تک گہرے گڑھے پڑ گئے تھے۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکا نے اس نوعیت کے بم اسرائیل کو بیچنے سے انکار کردیا تھا، بائیڈن انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ اسرائیل یہ بم فلسطینی شہروں پر برسائے گا اور اس سے بڑی تعداد میں اموات ہوں گی۔

Check Also

امریکی پرواز میں خاتون کی نازیبا حرکت، طیارے سے اترتے ہی گرفتار

Share امریکی ایئر لائنز کی بالٹی مور سے میامی جانے والی پرواز 1779 میں ایک …