
برطانیہ بھر کی مساجد پر گزشتہ ایک برس کے دوران 70 حملے یا نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ان واقعات میں اکتوبر میں ایسٹ سسیکس کے علاقے پیس ہیون کی مسجد میں آتش زنی، رمضان المبارک کے دوران برسٹل کی ایک مسجد کے باہر نمازِ جمعہ کے موقع پر سور کا گوشت رکھنے، توڑ پھوڑ، دھمکیاں اور خوف و ہراس پھیلانے کے متعدد واقعات شامل ہیں جبکہ دوسری جانب مساجد کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سیکیورٹی فنڈ کے حصول کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔یہ انکشاف مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کا ریکارڈ رکھنے والی تنظیم برٹش مسلم ٹرسٹ نے کیا ہے۔ ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو عقیلہ احمد کے مطابق درخواستوں کا بیک لاگ فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے، فنڈز کی تقسیم کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 ملین پاؤنڈ کا یہ فنڈ ہوم آفس کے بجائے مقامی انتظامیہ، ممکنہ طور پر میئرز کے دفاتر کے ذریعے تقسیم کیا جائے۔دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ برطانیہ میں مسلمان مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز جرائم کی تشویشناک سطح کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ ناصرف محفوظ ہوں بلکہ خود کو محفوظ بھی محسوس کریں۔ترجمان کے مطابق تمام موصولہ درخواستوں پر جلد از جلد کارروائی یقینی بنانے کے لیے بھی کام جاری ہے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved