
حکومت نے جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کا سپہ سالار مقرر کرنے کی سمری صدر عارف علوی کو بھجوا دی ہے جن کی منظوری کے بعد انہیں تعینات کر دیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنرل عاصم منیر 6 ناموں کی فہرست میں سینیارٹی میں سب سے سینئر ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹویٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے

لیفٹنٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور لیفٹنٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی سٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کا سپہ سالار مقرر کرنے کی سمری صدر عارف علوی کو بھجوا دی ہے جن کی منظوری کے بعد انہیں تعینات کر دیا جائے گا۔ ۔اگرجنرل عاصم منیر لیفٹیننٹ کی ملٹری خدمات پر ایک نظر ڈالیں تو وہ لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت میں سعودی عرب میں بھی تعینات رہ چکے ہیں جبکہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے سیاچن میں ڈویژن کمانڈ کی اور انڈیا کی جانب سے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کے دعوے سے چند روز قبل ہی وہ جی ایچ کیو میں تعینات ہوئے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر خفیہ ادارے کے سبکدوش ہونے والے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی جگہ لی جنھیں 2016 میں خفیہ ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ تقریباً پونے دو سال اس منصب پر فائز رہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران فوج کے ہی ایک اور انٹیلیجنس ادارے ’ایم آئی‘ کے سربراہ تھے۔ ستمبر 2018 میں انہیں دو سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن دو ماہ بعد چارج سنبھالا۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ایک بہترین افسر ہیں، عاصم منیر منگلا میں آفیسرز ٹریننگ سکول پروگرام کے ذریعے سروس میں شامل ہوئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ اس وقت سے موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر ایکس کور تھے۔بعد ازاں انہیں 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنادیا گیا۔تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا، آٹھ ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کا تقرر کر دیاگیا تھا۔جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جہاں وہ اس عہدے پر وہ دو سال تک فائزرہے تھے۔وہ فوج میں ایک سخت افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں