ٹوئٹرفرانس کےسربراہ احتجاجاًمستعفیٰ ہوگئے

Share

ٹوئٹر کے فرانسیسی آپریشنز کے سربراہ ڈیمین وائل نےٹویٹر میں زبردستی برطرفیوں کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ

’It’s over “

، ساتھی ہی انہوں نے اپنی فرانسیسی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جس کی قیادت وہ گزشتہ 7 سال سے کر رہے تھےانہوں نے اس بات کی تصدیق رائٹرز کودیئے گئے انٹرویو میں بھی کی ہے کہ وہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا نظام سنبھالنے اور اعلیٰ حکام سمیت بڑے پیمانے پر برطرفیوں اور غیر ضروری اقدامات کے باعث ٹوئٹر چھوڑ رہے ہیں۔تاہم انہوں نے گزشتہ ماہ ایلون مسک کے ٹوئٹر کا نظام سنبھالنے کے بعد یا اس سے قبل اپنی ذمہ داریوں اور اپنے استعفے کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی۔واضح رہے کہ فرانسیسی لیبر قوانین کے مطابق کمپنیاں مستقل ملازمین کو راتوں رات برطرف نہیں کرسکتی۔انہیں برطرفی سے قبل باضابطہ طور پر عملے کو اپنے منصوبوں کے حوالے پیشگی اطلاع دینی ہوتی ہے، نوٹس کی مخصوص مدت کا بھی احترام کرنا ہوتا اور جواباً تحریر اعتراف نامہ یا رسید وصول کرنی ہوتی ہے۔اس پورے عمل میں کم از کم کئی ہفتے اور کئی مہینوں تک کا وقت لگتا ہے۔دوسری جانب فرانس میں ٹویٹر کے ترجمان نے اکتوبر میں ایلون مسک کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔دنیا کے امیر ترین شخص کی جانب سے ٹوئٹر کا نظام سنبھالنے کے بعد سے کمپنی مشکل وقت سے گزر رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar