
بھارتی ریاست گجرات میں 20 روپے رشوت لینے کے الزام میں 30 سال جیل کاٹنے کے بعد بے گناہی ثابت ہونے پر رہا ہونے والا شخص اگلے روز ہی چل بسا۔1994 کی ہالی ووڈ فلم The Shawshank Redemption میں بھی ایک بے قصور شخص طویل عرصہ جیل میں گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے 4 فروری کو بری کیے جانے کے بعد اس شخص نے کہا کہ میری زندگی سے داغ مٹ گیا۔ اگر اب خدا مجھے اٹھا بھی لے تو مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا1996 میں احمد آباد میں تعینات پولیس کانسٹیبل بابو بھائی پرجاپتی پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 20 روپے رشوت لی تھی۔ ان پر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔1997 میں سیشن کورٹ میں چارج شیٹ دائر کی گئی، جبکہ 2002 میں باقاعدہ الزامات عائد کیے گئے۔ 2003 میں گواہوں کے بیانات شروع ہوئے اور 2004 میں سیشن کورٹ نے پرجاپتی کو چار سال قید اور 3,000 روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔بابوبھائی پرجاپتی نے اس فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، مگر ان کی اپیل 22 برس تک زیرِ التوا رہی۔ بالآخر 4 فروری 2026 کو ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بے گناہ قرار دے دیاعدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات موجود ہیں اور استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔پرجاپتی کے وکیل نتن گاندھی نے عدالت کو بتایا کہ پورا مقدمہ محض شبہات کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔فیصلے کے بعد بابو بھائی پرجاپتی نے اپنے وکیل کے دفتر میں دل کو چھو لینے والے الفاظ کہے اور پھر گھر واپس چلا گیا، تاہم افسوسناک طور پر اگلے ہی دن وہ طبعی موت (دل کا دورہ) پڑنے سے انتقال کرگیا۔ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ کاش وہ کچھ دن اور زندہ رہتے تاکہ اپنی بے گناہی کے بعد کی زندگی دیکھ پاتے۔پرجابتی کے وکیل نے کہا کہ کل جب وہ میرے دفتر آئے تو بہت خوش تھے کیونکہ وہ بری ہو چکے تھے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ حکومت سے اپنے تمام واجبات کے لیے درخواست دیں۔ اگلے دن جب میں نے فون کیا تو بتایا گیا کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved