
، قبل از وقت انتخابات کی راہ کو ہر صورت ہموار کرنےکے لیے تحریک انصاف نے احتجاج میں مذید شدت لانےکا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ عوامی مہم میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی زیر صدارت زمان پارک لاہور میں اہم مشاورتی اجلاس موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت ترین خیالات رکھنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں نے شرکت کی جن میں مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ، مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی، صوبائی وزیر راجہ بشارت، بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران قبل از وقت انتخابات، اعظم سواتی تشدد کیس، ارشد شریف کے قتل اور امریکی سائفر کے معاملے کو مزید شدت سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ عوامی سطح، میڈیا کے محاذ اور ہر سطح پر ان معاملات کا پر چار زور و شور سے کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں پارٹی کے بیانیہ کو گھر گھر پہنچائیں گے۔ اجلاس میں ملک میں ہوشربا مہنگائی، حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کو بھی اجاگر کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔جبکہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حقیقی آزادی مارچ میں روالپنڈی کے لیے پنجاب بھر کی یونین کونسل کو بھی ٹاسک دئیے جائیں گے۔ حکومت کو قبل از وقت انتخابات پر مجبور کرنے کے لیے عوامی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا ۔اس سے قبل عمران خان سے سابق وفاقی وزیر چودھری مونس الٰہی سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے درمیان رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔عمران خان اور مونس الہی میں اتفاق پایا گیا کہ کچھ شرپسند عناصر دونوں اتحادیوں میں دوری کی کوشش کررہے ہیں، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق مضبوط اتحادی کے طور پر آگے بڑھیں گے۔ملاقات کے دوران ق لیگی رہنما مونس الہی نے عمران خان کو لانگ مارچ سیکورٹی صورتحال، موجودہ سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پر بریفنگ دی