
آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے ذیلی کمیٹی کو17 اکتوبرتک حتمی مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔ خورشید شاہ کی زیر صدارت آئینی ترامیم کے حوالے سے پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور اے این پی کے مسودوں کا جائزہ لیا گیا۔ اے این پی کے مسودے میں کہا گیا ہے وفاق میں آئینی عدالت کی حمایت جب کہ صوبوں میں مخالفت کرتے ہیں، وفاقی آئینی عدالت اورسپریم کورٹ میں وفاق کی تمام اکائیوں کی برابرنمائندگی ہونی چاہیے۔ایمل ولی خان نے کہا خیبر پختونخوا کا نام صرف پختونخوا کرنے کی تجویز دی ہے، وسائل کی تقسیم کیلئے کمیٹی میں وفاق کی تمام اکائیوں کو یکساں نمائندگی دی جائے۔پی ٹی آئی نے ابھی تک کمیٹی کو اپنا مسودہ پیش نہیں کیا۔چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی آئی کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنا مسودہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے کردیں جبکہ کمیٹی نے پی ٹی آئی کی تمام مجوزہ مسودوں پر تفصیلی مشاورت کی تجویزمسترد کردی۔راجہ پرویز اشرف نےکہا ہم نے پہلے ہی بہت تاخیر کر دی ہے، ترمیم کسی فرد واحد یا کسی مخصوص جماعت کیلئے نہیں ہے بلکہ 24 کروڑ عوام کیلئے ہے۔کمیٹی کے چیئرمین نے وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کو ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی اگلے 2 دن میں آئینی مسودوں پر کام مکمل کرکے اپنی حتمی تجاویز دے، خصوصی کمیٹی کا اجلاس اب 17 اکتوبر کو سہ پہر ساڑھے تین بجے ہوگا۔ اے این پی کے ایمل ولی خان نے کہا صوبے کے نام کی تبدیلی کی تجویز کی کسی سیاسی جماعت نے مخالفت نہیں کی، کمیٹی کو واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی صرف وقت ضائع کر رہی ہے، کسی بھی مسودے پر اتفاق رائے نہیں کرے گی۔