
نیوزی لینڈ نے ملک میں موجود تین کروڑ 60 لاکھ گائیوں اور بھیڑوں کے جسمانی افعال کے نتیجے میں خارج ہونے والی ان گیسوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جو آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔منگل کو اعلان کردہ یہ پالیسی دنیا کی پہلی پالیسی ہو گی جس کے تحت گائے کے ڈکار اور بھیڑ کے پیشاب پر ٹیکس لگایا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کے طاقتور فارمنگ کے شعبے نے فوری طور پر اس تجویز کی مذمت کی ہے۔زرعی صنعت کے مرکزی لابی گروپ فیڈریٹڈ فارمرز سے وابستہ کاشت کاروں نے متنبہ کیا کہ اس تجویز سے اندرون ملک خوراک کی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ’نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ملک کو بری طرح نقصان پہنچے گا۔‘ اور مویشیوں کے باڑوں کی جگہ درخت لے لیں گے اس ملک کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے لیکن یہاں بڑے گوشت اور ڈیری مصنوعات کے لیے ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں۔