
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونا ہوگا، ہم ظالم طبقے سے اپنا حق لیں گے، لاہور میں کسانوں کا مسئلہ ہے، ایک طرف بڑے جاگیر دار ہیں تو دوسری طرف چھوٹا کسان ہے، حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ گندم خریدیں گے، پنجاب میں بھتیجی کی حکومت ہے، حکومت اپنے اعلان سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ حکومت والے فارم 47 کی بنیاد پر ہم پر مسلط ہوئے ہیں، یہ حکمران فیملی انٹرپرائیزز ہیں اور اب کہہ رہے ہیں گندم نہیں خریدیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گندم بحران ابھی تک حل نہیں کیا گیا، جاگیرداروں پرٹیکس نہیں لگایا جاتا، کاشتکار جو 10 سے 15 ایکڑ کے مالک ہیں ان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے جبکہ ہزاروں ایکڑ زمینوں والے ٹیکس نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ 16 مئی کو لاہور میں کسانوں کا مارچ ہوگا اور اس مارچ میں عوامی مسائل اور کسانوں کے حق پر بات ہوگی۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش ہے، آزاد کشمیر کی صورتحال پر جماعت اسلامی عوام کے ساتھ ہے جب کہ ہم پرامن احتجاج اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے مسائل کی مکمل حمایت کرتے ہیں، آزاد کشمیر میں جو صورتحال پیش آئی وہ تشویشناک ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اس وقت وہاں احتجاج حکومت کے باعث ہوا، جب لوگوں کو کچھ بھی فراہم نہیں کیا جائے گا تو عوامی ردعمل فطری ہے تاہم شرپسندوں کی کسی صورت سپورٹ نہیں کرسکتے اور آزاد کشمیر میں کی گئی بیوقوفی کی وجہ سے بھارت ہم پر بات کرنے لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم پر حکمران بات نہیں کرتے، بھارت جو کچھ کررہا ہے اس پر ہماری حکومت خاموش ہے لیکن بھارت کے مقاصد کبھی پورے نہیں ہوں گے۔