
ایودھیا میں اس مقام پر انتہا پسند ہندو بنئیے نے مندر کا افتتاح کردیا جہاں 1992ءمیں بابری مسجد منہدم کر دی گئی تھی۔ اس مسجد کی تاریخ ،شہادت، قانونی جنگ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔1528میں ایودھیا میں میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر کرائی۔1949 میں خفیہ طور سے مسجد میں رام کی مورتی رکھ دی گئیں۔1959میں نرموہی اکھاڑے کی طرف سے متنازع مقام کے تعلق سے ٹرانسفر کی درخواست دی گئی۔ 1961میں یو پی سنی سنٹرل بورڈ نے بھی بابری مسجد پر قبضہ کی درخواست دی۔1986میں اس مقام کو ہندو عقیدت مندوں کے لئے کھول دیا گیا، اسی سال بابری مسجد ایکشن کمیٹی تشکیل ہوئی۔1990 میں لال کرشن اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا کا آغاز کیا۔1991 میں رتھ یاترا کی لہر سے بی جے پی اتر پردیش کے اقتدار میں آ گئی۔ اسی سال مندر تعمیر کے لئے ملک بھر سے اینٹیں بھیجی گئیں۔6 دسمبر 1992 میں ایودھیا پہنچ کر ہزاروں انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے، دو ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے، ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا. سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤنے مسجد کی از سر نو تعمیر کا وعدہ کیا۔16 دسمبر 1992 مسجد انہدام کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن تشکیل دی گئی۔1994 میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں مسجد انہدام کےمقدمہ کا آغاز ہوا۔4 مئی 2001 میںخصوصی جج ایس کے شکلا نے بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی سمیت 13 رہنماؤں کو سازش کے الزام سے بری کر دیا۔یکم جنوری 2002 کو اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ایودھیا کمیشن قائم کیا،یکم اپریل 2002 میںایودھیا کے اس مقام پر مالکانہ حق کے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کی تین ججو ں کی بنچ نے سماعت کاآغاز کیا۔5 مارچ 2003 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کرنے کا حکم دیا تاکہ مندر یا مسجد کے حوالے سے ثبوت مل سکیں۔22 اگست 2003 کھدائی کے بعد کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسجد کے نیچے 10 ویں صدی کے مندر کی باقیات کا اشار ہ ملتا ہے۔ اس رپورٹ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے چیلنج کیا۔ستمبر 2003 کو عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسجد انہدام کے لئے اکسانے والے 7 ہندو رہنماؤ ں کو پیشی پر بلایا جائے۔جولائی 2009 ۔ لبراہن کمیشن نے کمیشن تشکیل کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔26 جولائی 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھا اور تمام فریقین سے آپسی رضامندی سے حل نکالنے کی صلاح دی۔ لیکن کوئی فریق آگے نہیں آیا۔28 ستمبر 2010 میں سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ دینے سے روکنے والی درخواست خارج کردی جس کے بعد فیصلہ کی راہ ہموار ہوئی۔ 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس کے تحت متنازع زمین کو تین حصو ں میں تقسیم کر تے ہوئے ایک حصہ رام مندر، دوسرا سنی وقف بورڈ اور تیسرا نرموہی اکھاڑے کو دے دیا ۔9 مئی 2011 کو سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے دے دیا۔ 21مارچ 2017 میں سپریم کورٹ نے معاملےکو آپسی رضامندی سے حل کرنے کی صلاح دی۔19 اپریل 2017 میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے کا حکم سنایا۔