بنگلہ دیش میں عام انتخابات: پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

Share

بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ابتدائی نتائج پیر کی صبح تک متوقع ہیں۔ ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعت بی این پی نے الیکشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔تاہم اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کی کال کے سبب انتخابات میں خونریزی کا بھی خدشہ ہے۔ حکومت پہلے ہی ملک بھر می فوج تعینات کر چکی ہے۔انتخابات سے محض ایک دن پہلے الیکشن کمیشن کی ایک ایپ نے کام کرنا بند کردیا۔ اس ایپ کے ذریعے ووٹر پولنگ اسٹینشنوں کی تفصیلات اور دیگر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ 21 کروڑ ٹکا کی لاگت سے یہ ایپ حال ہی میں لانچ کی گئی تھی۔اتوار کو پولنگ کے دوران بنگلہ دیش کے متعدد علاقوں سے ہنگامہ آرائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سابق حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکنوں نے چٹا گرام (سابق چٹاگانگ کا چاٹگام) کے علاقے چاند گائوں میں ٹائر جلاکر سڑکیں بند کردیں۔جب پولیس رکاوٹیں ہٹاکر سڑکیں کھلوانے پہنچی تو بی این پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم شروع ہوگیا۔چٹا گرام میں پولیس کے اعلیٰ افسر پنکج دتہ نے بتایا کہ بی این پی کے کارکنوں نے صورتِ حال خراب کرنے کی کوشش کی۔ جب پولیس نے گاڑیوں کی آمد و رفت بحال کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے پتھرائو شروع کردیا جس پر پولیس کو بھی ہوائی فائرنگ کے ذریعے جواب دینا پڑا۔کئی مقامات سے پولنگ میں دھاندلی کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سے 70 کلومیٹر دور ضلع نرسنگدی میں جعلی ووٹ بھگتائے جانے کی اطلاع پر پولنگ معطل کردی گئی۔ ایک مقامی پریس رپورٹر نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ابراہیم پور گورنمنٹ پرائمری اسکول کے پولنگ اسٹیشن میں بے قاعدگیوں کی اطلاعات ملنے پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر بدیع الاسلام نے پولنگ رکوادی۔اس سے قبل جمعہ کو ڈھاکہ میں ایک ٹرین میں آگ لگ گئی تھی جس میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔بی این پی نے انتخابات کے لیے نگراں حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جو حسینہ واجد کی حکومت نے مسترد کردیا۔ اس پر بی این پی کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا گیا۔بنگلہ دیش کے انتخابات اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان میں مغرب کا بھی امتحان ہوگا۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد ہونے والے الیکشن کو مغربی ممالک تسلیم کرتے ہیں یا پابندیاں لگاتے ہیں، اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔انتخابات کے موقع پر اپوزیشن بی این پی نے 48 گھنٹے کی ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ یہ ہڑتال ہفتہ کو شروع ہوئی اور اتوار کو بھی جاری رہے گی۔ بی این پی نے اتوار کو ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان بھی کیا ہے۔بی این پی سربراہ خالد ضیا اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ بنگلہ زبان کے اخیار ڈیلی تھانتی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بی این پی کے کارکن پہلے ہی ہنگامہ آرائی شروع کرچکے ہیں۔ہفتہ کو روئیٹرز نے ایک رپورٹ میں کہا کہ بنگلہ دیش میں پولنگ بوتھس کو آگ لگائی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar