کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر فافن کا نیا اور پرانا ڈیٹا جاری

Share

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے الیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ آر اوز کے فیصلوں کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے، اور آراوز اعتراض کی صورت میں اپنے فیصلوں کی وجوہات درج کریں۔پاکستان میں الیکشن کی نگرانی کے حوالے سے اس اہم تنظیم نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر نیا اور پرانا ڈیٹا بھی جاری کیا ہے جس سے ماضی اور حال کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔فافن نے کہاکہ انتخابات 2024 میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی شرح 12.4 فیصد رہی۔الیکشن 2018کیلئے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی شرح 10.4 فیصد تھی جب کہ الیکشن 2013 کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی شرح 14.6 فیصد تھی۔فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے جاری لیٹر کے مطابق الیکشنز ایکٹ 2017 کا سیکشن 62 (11) آر اوز سے ہر کاغذات نامزدگی پر اپنے فیصلے کی توثیق کرنے کا تقاضا کرتا ہے، یا تو اسے قبول یا مسترد کرتے ہیں۔فافن نے اپنے خط میں زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کیلئے 12.4 فیصد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے، الیکشن کمیشن امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات اور کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے متعلق ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے، اور آر اوز اعتراض کی صورت میں اپنے فیصلوں کی مختصر وجوہات درج کریں۔فافن کا کہنا ہے کہ ایکٹ کا سیکشن 4(3) کمیشن کو اختیار دیتا ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے اپنے آئینی مینڈیٹ کو پورا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے، کمیشن اپنی ویب سائٹ پر ایسے فیصلوں کو اپ لوڈ کرنے کے لیے اس اتھارٹی سے درخواست کر سکتا ہے، جس سے اس معاملے پر کسی بھی طرح کی غلط معلومات کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar