
عام انتخابات 2024ء کیلئے ملک بھر میں کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آج آخری روز ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کے این اے 50 اسلام آباد پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، زلفی بخاری نے وکلا، تائید و تجویز کنندہ کو حراست میں لینے پر ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔این اے 15 مانسہرہ میں اعظم سواتی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، نواز شریف کے وکیل نے موقف اپنایا کہ الیکشن لڑنے والے امیدوار کا ملک میں ہونا ضروری ہے۔سوشل سیکیورٹی واجبات کی عدم ادائیگی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر این اے 71 سیالکوٹ میں عثمان ڈار کی والدہ اور اہلیہ کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردیے گئے۔ریحانہ ڈار اور عروبہ ڈار نے خواجہ آصف کے مقابلے میں کاغذات جمع کروائے تھے۔بدین میں این اے 223 سے فہمیدہ مرزا، ذوالفقار مرزا اور حسام مرزا کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔ڈی آر او آفس کا کہنا ہے مرزا فیملی نجی بینک کی 21 کروڑ 19 لاکھ روپے کی ناہندہ ہے، اسٹیٹ بینک رپوٹ کی روشنی میں کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔این اے 209 سانگھڑ میں جی ڈی اے کے امیدوار محمد خان جونیجو کے کاغذات تاحیات نااہلی کے باعث مسترد کردئے گئے۔پی کے 26 بونیر پر 3 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے جس میں پی ٹی آئی کے سالار جہان، اے این پی کے شجاعت علی خان اور شیر رحمان شامل ہیں۔دوسری جانب سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کاغزات پر عائد اعتراض کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور سے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ، ن لیگ کے امیدوار نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کاغذات پر اعتراض عائد کیا تھا، ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے دو روز قبل فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، قومی اسمبلی کے حلقے این اے 263 کوئٹہ سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قاسم سوری کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔ ریٹرنگ آفیسر کے مطابق قاسم سوری کے کاغذات نامزدگی ڈیفالٹ، مفرور اور شناختی کارڈ بلاک ہونے پر مسترد کیے گئے، اسی طرح حلقہ این اے 264 کوئٹہ سے سردار اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔ ریٹرننگ آفیسر کا کہنا ہے کہ اختر مینگل کے پاس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اقامہ ہونے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔دوسری جانب این اے 122 سے خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔ این اے 122 لاہور سے مجموعی طور پر 11 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے