نیٹو کے یوکرین کومہیّا کردہ مہلک ہتھیاربلیک مارکیٹ میں جارہے ہیں:روس

Share

روس نے کہا ہے کہ مغرب کی جانب سے یوکرین کومہیّا کردہ جدید ہتھیاربلیک مارکیٹ میں جارہے ہیں اوروہاں سے پھر مشرقِ اوسط، وسطی افریقااورایشیا میں انتہاپسنداور جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔روس نے 24 فروری کو یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ کا آغاز کیا تھا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپ میں یہ سب سے بڑا زمینی حملہ ہے۔مغربی طاقتوں نے روسی فوجیوں سے لڑنے والی یوکرینی افواج کی مدد مختلف اور جدید قسم کے ہتھیاروں کی کھیپیں بھیجی ہیں روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے کہا کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے ارکان نے یوکرین کو مجموعی طور پر توپ خانے کے کم سے کم 700نظام، 80،000 میزائل سسٹم، توپ خانے کے 800،000 گولے اور 9 کروڑ گولیاں یا گولے بھیجے ہیں۔زخروفا نے ماسکو میں صحافیوں کوبتایا کہ ان ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی بلیک مارکیٹ میں داخل ہو چکا ہے یا جلد ہی داخل ہو جائے گا۔ اب عالمی برادری کو اس کاسامنا ہے۔انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا دعویٰ کس ثبوت پر مبنی ہے۔زخروفا نے مزید کہا کہ نیٹو کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان مشرقِ اوسط، وسطی افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا میں دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں میں جا رہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین یوکرین کے تنازع میں ایک فریق ہے کیونکہ اس بلاک نے کیف کو جدید ہتھیارمہیا کیے ہیں۔روس ایک طویل عرصے سے خبردار کررہا ہے کہ یوکرین کومہیّا کردہ ہتھیارمجرموں کے ہاتھوں میں جانے کا راستہ تلاش کرسکتے ہیں لیکن اس نے اس بات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی کہ یہ ہتھیار بالآخر کن ہاتھوں میں جاسکتے ہیں۔مغربی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی روس کو شکست دینے میں مددکرناچاہتے ہیں،حالانکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹواورروس کے درمیان براہِ راست تصادم کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

یوکرین امریکا اوراس کے اتحادیوں سے مزید ہتھیاروں کا مطالبہ کررہا ہے۔تاہم، بعض سکیورٹی اہلکاروں نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہارکیا ہے۔انٹرپول کے سربراہ جرگن اسٹاک نے جون میں کہا تھا کہ یوکرین کو بھیجے جانے والے کچھ جدید ہتھیار منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ جائیں گے۔یوروپول نے جولائی میں کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یوکرین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس نے اس وقت کہا تھا کہ ’’ماضی میں جنگ زدہ علاقوں میں ایک ممکنہ خطرہ یہ دیکھا گیا ہے کہ آتشیں اسلحہ غلط ہاتھوں میں جاسکتا ہے‘‘۔یوروپول نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین میں آتشیں اسلحہ اوردھماکا خیزمواد کے پھیلاؤ سے اسمگلنگ کو فروغ مل سکتا ہے اور یہ اسلحہ اسمگل کرکےیا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے یورپی یونین میں واپس لایا جاسکتا ہے اوریوں بلاک کے ممالک میں آتشیں اسلحہ اورگولہ بارود میں اضافہ ہوسکتا ہے۔یوکرین میں جاری تنازع ختم ہونے کے بعد تو اس اسلحہ سے خطرہ اور بھی بڑھ سکتا ہے۔ں۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے کہا کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے ارکان نے یوکرین کو مجموعی طور پر توپ خانے کے کم سے کم 700نظام، 80،000 میزائل سسٹم، توپ خانے کے 800،000 گولے اور 9 کروڑ گولیاں یا گولے بھیجے ہیں۔زخروفا نے ماسکو میں صحافیوں کوبتایا کہ ان ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی بلیک مارکیٹ میں داخل ہو چکا ہے یا جلد ہی داخل ہو جائے گا۔ اب عالمی برادری کو اس کاسامنا ہے۔انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا دعویٰ کس ثبوت پر مبنی ہے۔زخروفا نے مزید کہا کہ نیٹو کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان مشرقِ اوسط، وسطی افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا میں دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں میں جا رہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین یوکرین کے تنازع میں ایک فریق ہے کیونکہ اس بلاک نے کیف کو جدید ہتھیارمہیا کیے ہیں۔روس ایک طویل عرصے سے خبردار کررہا ہے کہ یوکرین کومہیّا کردہ ہتھیارمجرموں کے ہاتھوں میں جانے کا راستہ تلاش کرسکتے ہیں لیکن اس نے اس بات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی کہ یہ ہتھیار بالآخر کن ہاتھوں میں جاسکتے ہیں۔مغربی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی روس کو شکست دینے میں مددکرناچاہتے ہیں،حالانکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹواورروس کے درمیان براہِ راست تصادم کو روکنے کی کوشش کی ہے۔یوکرین امریکا اوراس کے اتحادیوں سے مزید ہتھیاروں کا مطالبہ کررہا ہے۔تاہم، بعض سکیورٹی اہلکاروں نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہارکیا ہے۔انٹرپول کے سربراہ جرگن اسٹاک نے جون میں کہا تھا کہ یوکرین کو بھیجے جانے والے کچھ جدید ہتھیار منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ جائیں گے۔یوروپول نے جولائی میں کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یوکرین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس نے اس وقت کہا تھا کہ ’’ماضی میں جنگ زدہ علاقوں میں ایک ممکنہ خطرہ یہ دیکھا گیا ہے کہ آتشیں اسلحہ غلط ہاتھوں میں جاسکتا ہے‘‘۔یوروپول نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین میں آتشیں اسلحہ اوردھماکا خیزمواد کے پھیلاؤ سے اسمگلنگ کو فروغ مل سکتا ہے اور یہ اسلحہ اسمگل کرکےیا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے یورپی یونین میں واپس لایا جاسکتا ہے اوریوں بلاک کے ممالک میں آتشیں اسلحہ اورگولہ بارود میں اضافہ ہوسکتا ہے۔یوکرین میں جاری تنازع ختم ہونے کے بعد تو اس اسلحہ سے خطرہ اور بھی بڑھ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar