الیکشن کی تاریخ پر اتفاق رائےکیلئے سپریم کورٹ نےسیاسی رہنماؤں کو آج طلب کرلیا

Share

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف، چئیرمین تحریک انصاف عمران خان سمیت متعدد سیاست دانوں کو الیکشن کی تاریخ پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے آج طلب کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شہباز شریف، عمران خان، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق سمیت دیگر رہنماؤں کو آج طلب کرلیا۔خالد مقبول صدیقی، اسفندیار ولی، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر رہنماؤں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مکالمے سے متعلق شہری کی درخواست پر سماعت ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔چیف جسٹس نےکہا ہےکہ اگر سیاسی جماعتیں انتخابات کی تاریخ بدلنا چاہتی ہیں تو عدالت ان کے ساتھ ہے، سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آجائیں تو گنجائش نکال سکتے ہیں، سیاسی مذاکرات میں اتفاق ہوا تو ٹھیک ورنہ ہم 14مئی کا حکم دے چکے گزشتہ روز کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ 4 اپریل کا عدالت کا حکم نامہ آئین کے احکامات کے مطابق ہے، سیاسی مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی جائے، شہری نے ایک ہی وقت میں انتخابات کرانےکی درخواست دے رکھی ہے، بادی النظر میں درخواست گزار کے موقف میں جان ہے، انتخابات سیاسی میدان میں سیاسی قوتوں کےدرمیان لڑے جاتے ہیں ۔حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ انتخابات تمام سیاسی قوتوں کی تجاویز کے ساتھ بہترین انداز میں منعقدکیے جاسکتے ہیں تاہم یہ بات واضح ہونی چاہیےکہ سیاسی مکالمےکا عمل سپریم کورٹ کے4 اپریل کو دیےگئے حکم کے مطابق پنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے پہلو تہی کرنےکا باعث نہیں ہوگا ، آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات کرانا لازم ہے۔تین رکنی بینچ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے لیے فنڈز کے حوالے سےکہا ہے کہ حکومت 21 ارب روپے 27 اپریل تک الیکشن کمیشن کو فراہم کرے، حکومتی گرانٹ کے بل مسترد ہونے کا مطلب ہےکہ وزیر اعظم اور کابینہ ایوان میں اکثریت کھو بیٹھی ہے جب کہ اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ ایسا نہیں اٹارنی جنرل سے فی الحال اتفاق کرتے ہوئے حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ دوسری صورت بھی حکومت کو سنگین آئینی مسائل کی طرف لے جا سکتی ہے، عدالتی حکم کی نا فرمانی کے بھی سنگیں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں لہٰذا ضروری ہےکہ حکومت 27 اپریل تک 21 ارب روپے فراہم کرے ۔ عدالت نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انتخابات 8 اکتوبر تک ملتوی کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی متفرق درخواستیں نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹانےکا حکم بھی دے دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar