
پاک فوج کے دہشتگردی کیخلاف جامع آپریشن میں ان علاقوں سے رہائشیوں کا انخلا نہیں ہوگا، یہ آپریشن رد الفساد یا ضرب عضب کی طرح کوئی بڑا یا نیا آپریشن نہیں بلکہ پہلے سے جاری آپریشنز کو مربوط اور مؤثر انداز میں لانچ کیا جائے گا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے آپریشن کو ایک ایسی مہم قرار دیا گیا ہے جس میں ریاست کے تمام اجزا اسکا حصہ ہونگے ،یعنی سکیورٹی عناصر کے علاوہ سیاسی، خارجہ امور، قانونی ، معاشی اور معاشرتی ڈومین کا بھی عمل دخل ہوگا۔سیاسی قیادت کو اس کی اونرشپ لینا ہو گی، اس عمل میں قانونی تحفظ کے لحاظ سے اقدامات ہونگے، بد امنی پیدا کرنے والے عناصر اور انکے سہولت کاروں کو خارجہ امور کے فرنٹ پر دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان علاقوں میں تعمیروترقی کیلئے مختص فنڈز درست طریقے سے خرچ ہوں۔قومی سلامتی کمیٹی کے 7 اپریل کے اجلاس کے اعلا میہ کے بعد پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا تھا کہ فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر ایسا آپریشن شروع کیا جائے گا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا ہو گی جو کہ حقائق کے بالکل برعکس تھا۔گزشتہ روز قومی سلامتی سے متعلق قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کا بنیاد ی مقصد اس تاثر کوزائل کرناتھا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کوئی بھی آپریشن چار مراحل کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا یعنی کلیئر، ہولڈ ، تعمیر اور منتقلی، مالاکنڈ اور سوات میں آپریشنز کے دوران یہ چاروں مراحل مکمل کر کے آپریشنز کو کامیاب بنایا گیا مگرضم شدہ قبائلی علاقوں میں ایسا نہ ہو سکا۔ماضی میں قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران کلیئر اور ہولڈ کے مرحلے تک تو کامیابی مل گئی مگر تعمیر اور منتقلی کے عمل کے دوران فنڈز درست طریقے سے خرچ نہ کئے جاسکے اور یہ آپریشن اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکے۔اب آخری دو مراحل کی کامیابی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تعمیر اور منتقلی کے عمل کے دوران دہشتگردی پھر سر نہ اٹھا سکے، آرمی چیف نے کہا کہ یہ ایک مہم ہے جو ریاست پاکستان کی پہلے سے منظور شدہ اور جاری حکمت عملی پر مبنی ہے۔دوسری جانب وفاقی کابینہ نے کچے کے علاقے میں آپریشن کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے، پاک فوج کچے کے علاقے میں جاری آپریشن میں حصہ لے گی۔وزارت داخلہ کی سمری کی سرکولیشن کے ذریعے کابینہ سے منظوری لے لی گئی ہے، پنجاب حکومت نے فوج کی خدمات کیلئے وفاق سے رجوع کیا تھا، فوج کی خدمات کیلئے 24 اپریل تک توسیع کے ساتھ 5 مئی تک درخواست کی گئی ہے، آپریشن کی صورتحال کو مد نظررکھتے ہوئےفوج کی خدمات میں توسیع کا فیصلہ ہو گاپنجاب حکومت نے موقف اپنایا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکو جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں، آپریشن میں آرمی ٹروپس، گاڑیوں اور آلات کی ضرورت ہوگی۔