
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کی بیٹی اور ممکنہ جانشین کم جو اے کی ایک چھوٹی بہن یا چھوٹا بھائی بھی ہے، تاہم اس کی جنس ظاہر نہیں کی گئی۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق پیانگ یانگ کے حکمراں خاندان میں بچوں کی پیدائش کی ترتیب طویل عرصے سے راز میں رہی ہے، تاہم کم جو اے کو اس وقت قیادت سنبھالنے کے لیے باقاعدہ طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ایجنسی اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا کم جونگ ان کا کوئی بڑا بیٹا بھی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق

اگر کوئی بڑا بیٹا ہے بھی تو وہ جانشینی کی صف میں کسی مقام پر نہیں ہے۔کم جو اے پہلی مرتبہ 2022ء میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کے موقع پر دنیا کے سامنے آئیں اور اس کے بعد سے اپنے والد کے ہمراہ اہم مواقع پر نمایاں ہوتی رہی ہیں۔وہ اہم سرکاری تقریبات، فوجی پریڈز اور بڑے سفارتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا اب انہیں ’رہنمائی کرنے والی عظیم شخصیت‘ کے لقب سے بھی مخاطب کرتا ہے، جو ماضی میں صرف اعلیٰ ترین رہنماؤں کے لیے مخصوص رہا ہے۔اس لقب اور ان کی بڑھتی ہوئی عوامی موجودگی کو کم جونگ اُن کے خاندان کی اگلی نسل میں ان کی مضبوط ہوتی حیثیت اور ممکنہ جانشینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے. دوسری جانب شمالی کوریا میں اقتدار کی منتقلی کا وقت قریب آ رہا ہے، جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی کم عمر بیٹی کم جو اے کو آئندہ رہنما کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے جس سے خاندان کے اندر طاقت کی کشمکش کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلیجنس سروس نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ تقریباً 13 سالہ کم جو اے کو جَلد کم جونگ اُن کا باضابطہ طور پر وارث نامزد کیا جا سکتا ہے۔جنوبی کوریا میں اس ماہ ہونے والی ورکرز پارٹی کی بڑی اور اہم کانفرنس میں بھی اس حوالے سے اہم اشارے دیے گئے۔واضح رہے کہ کِم جو اے پہلی بار نومبر 2022ء میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربے کے موقع پر منظرِ عام پر آئی تھیں۔اس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ فوجی پریڈز، ہتھیاروں کے تجربات اور فیکٹری دوروں میں نظر آتی رہی ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں وہ چین بھی گئی تھیں، کم جو اے کے اس دورے کو جانشینی کی تیاری کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتداء میں جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام کو شک تھا کہ مردانہ غلبے والے نظام میں کسی لڑکی کو قیادت نہیں دی جا سکتی مگر کِم جو اے کی سیاسی سطح پر مسلسل موجودگی نے اس سوچ کو تذبذب میں بدل دیا ہے۔طاقت ور خالہ کا چیلنجبین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا میں اقتدار کی دوڑ میں ایک بڑا نام کِم یو جونگ کا بھی ہے۔ 38 سالہ کم یو جونگ کو شمالی کوریا کی دوسری طاقتور ترین شخصیت سمجھا جاتا ہے اور وہ ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی میں اعلیٰ عہدہ بھی رکھتی ہیں۔کم یو جونگ اپنے سخت بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں، 2022ء میں اُنہوں نے جنوبی کوریا کے وزیرِ دفاع کو شدید دھمکیاں دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اشتعال انگیز بیانات کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کے سابق انٹیلیجنس اہلکار رہ جونگ یِل کے مطابق اگر کِم یو جونگ کو موقع ملا تو وہ قیادت حاصل کرنے کی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔بقول رہ جونگ یِل کے جنوبی کوریا کے مستقبل میں طاقت کی اعلیٰ اور انتہائی سنجیدہ سطح پر کھینچا تانی ’ممکن‘ نظر آ رہی ہے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved