آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت میں اسی دفتر میں تھا، عباس عراقچی کا انکشاف

Share

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت میں اسی دفتر میں تھا اور مجھے ملبے کے نیچے سے نکالا گیا۔اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے بتایا کہ ایرانی سپریم لیڈر اور امریکی صدر کی ملاقات حقیقت پسندانہ نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی دنیا میں نہیں رہ رہے۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ سعودی عرب خطے کا بڑا ملک اور اہم کھلاڑی ہے، ایران سعودی عرب مل کرخطے میں امن، استحکام اور ترقی لا سکتے ہیں، ایران ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا رہا ہے۔ادھر روسی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے 50 لڑاکا طیاروں نے آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر پر حملہ کیا تھا۔

Check Also

روس: یاروسلاول ریجن میں یوکرینی ڈرون حملہ، تنصیبات میں آگ لگ گئی

Share روس کے یاروسلاول ریجن میں یوکرینی ڈرون حملے کے بعد ایندھن ذخیرہ کرنے کی …