
لاہور : ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کامران فیصل نے مردہ جانوروں کا گوشت دکانوں اور ہوٹلوں پر سپلائی کرنے کے حوالے سے اہم انکشافات کئے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں مردہ جانوروں کا گوشت دکانوں اور ہوٹلوں پر کھلانے کا انکشاف ہوا ہے، اور وہ بھی ایسے جانوروں کا جنہیں زہر کھلاکر مارا جاتا، اور پھر ذبح کرکے ان کا گوشت سپلائی کیا جاتا رہا۔گرین ٹاؤن کے علاقے میں کئی ماہ سے پالتو جانور پراسرار طور پر ہلاک اور غائب ہو رہے تھے، سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے معاملہ بے نقاب ہوا، جس کے بعد علاقہ مکینوں نے شاہد نامی ملزم کو پکڑا۔ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ جانوروں کے چارے میں زہر ملاتا تھا اور جب جانور مرجاتے تو دوست کے ساتھ مل کر مردہ جانوروں کو کچرا کنڈیوں سے اٹھا کر ان کا گوشت بنا کر ہوٹلوں میں فروخت کرتا رہا تاہم پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے آٹھ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کامران فیصل نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قصائی 2 ہزار روپے میں مردہ بکرا خریدتا تھا اور پھر اسے مختلف جگہوں پر سپلائی کرتا تھا تاہم ملزمان ریمانڈ پر ہیں اوراور مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ عوام کی اطلاع اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے علاقے میں جانوروں کی ہلاکتوں کے سلسلے میں ملزم کا سراغ لگا۔ان کا کہنا تھا کہ ون فائیو پر کال کی گئی کہ میرے بکرےکو زہر دے کر مارا گیا اور لوگوں نے اطلاع دی تھی کہ یہ شخص یہاں گھومتا رہتا ہے، ہیومن انٹیلی جنس سے پتہ چلا کہ اس علاقے میں جتنے بکرے مرتے ہیں، یہ شخص نظر آتا ہے ملزم کے خلاف مقدمات میں آلہ قتل اور ڈنڈا بھی برآمد کر لیا گیا ہے، اور پولیس نے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved