امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈ ٹرم انتخابات کے فوری بعد ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
ایکس پر اپنے بیان میں کارلسن نے کہا ہے کہ نیتن یاہو ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں ممکنہ ہدف وسطی ایران میں واقع پِک ایکس ماؤنٹین کو قرار دیا ہے
امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ پہاڑ کے اندر موجود سرنگوں تک رسائی کے لیے امریکی روایتی ہتھیار مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے، جس کے باعث جوہری حملے کا آپشن زیرِ غور آ سکتا ہے، اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اس مقام پر جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔کارلسن کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت درکار ہے، نیتن یاہو اس مقصد کے لیے ٹرمپ کی مداخلت اور مدد چاہتے ہیں، جبکہ ناکامی کی صورت میں انہیں وزارتِ عظمیٰ سے محرومی، تحقیقات اور ممکنہ قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے وہ ٹرمپ کے قریب رہنے اور ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں. ہٹکر کارلسن نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم امارات نے انکار کر دیا، ایران پر جوہری حملے کے نتیجے میں خلیجِ فارس کا پانی آلودہ ہونے اور عالمی سطح پر جوہری جنگ کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔کارلسن کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ معاہدے کے حامی ہیں اور صدر ٹرمپ کو سفارتی حل کی جانب مائل کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا ہے اور پِک ایکس ماؤنٹین سمیت صرف 1 یا 2 مقامات باقی رہ گئے ہیں، جن سے نمٹنے میں 10 منٹ لگ سکتے ہیں۔