پشاور (نمائندہ آویئر انٹرنیشنل) خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے سے ایک دن قبل بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی ملاقات میں کیا ہوا، اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
باوثوق ذرائع کے مطابق کے پی کے میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگنے سے ایک دن قبل چئیرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی، جس میں جنید اکبر، شاہد خٹک اور شفیع جان بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو وفاق کی جانب سے گورنر راج کے فیصلے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مذاکراتی مسودے کی دہشت گردی سےمتعلق ایک شق پر نظرثانی ہوجائے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں. پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تینوں رہنماء بیرسٹر گوہر سے متفق نہیں ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی نے اسد قیصر کو بھی آن لائن کال کی لیکن وہ بھی متفق نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے جاتے ہوئے کہا کہ یہ سی ایم ہاؤس میں ہماری آخری ملاقات ہوسکتی ہے، بیرسٹر گوہر نے ملاقات کا احوال پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کو بتادیا۔ گورنر راج لگنے سے 2 دن قبل بیرسٹر گوہر نے شاہد خٹک اور شفیع جان سے رابطہ کیا تھا اور دونوں رہنماؤں کو بتایا کہ وفاق صوبے میں گورنر راج لگا رہا ہے. ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے ان کو بھی بتایا کہ مذاکراتی مسودے کی ایک شق پر وزیراعلیٰ آمادہ ہوجائیں تو گورنر راج کا خطرہ ٹل سکتا ہے، شفیع جان اور شاہد خٹک کے رابطے کے بعد سہیل آفریدی نے بیرسٹر گوہر کو سی ایم ہاؤس آنے کا کہا۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے اسپیکر بابر سلیم کو ملاقات کا کہا، بابر سلیم نے کہا میری طبیعت خراب ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق واپسی پر صوابی کے مقام پر بیرسٹر گوہر کو محسن نقوی کا مسیج آیا،’اینی پراگریس‘، جو اب میں بیرسٹر گوہر نے لکھا " No "
ذرائع کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ہوا تو سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں نے بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا، جس کے بعد وفاق سے رابطہ کیا گیا تو جواب آیا ’اب دیر ہوچکی ہے.