کرکٹ کی تاریخ میں آج کے دن یعنی 31 اکتوبر کو پاکستان کرکٹ کے اہم ترین واقعات ہوئے، جن میں جاوید میانداد کی کم عمری میں ڈبل سنچری اور وقار یونس نے تباہ کن بولنگ سے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
31 اکتوبر 1976ء کو پاکستان کے عظیم بلے باز جاوید میانداد نے 19 سال اور 141 دن کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ڈبل سنچری بنانے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔انہوں نے اپنے کیریئر کے تیسرے ہی ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں 206 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس سے قبل وہ اپنے پہلے ٹیسٹ میں بھی 163 رنز بنا چکے تھے۔پاکستان نے پہلی اننگز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 565 رنز بنائے۔ جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 195 رنز پر 6 وکٹیں گنوا بیٹھی، تاہم وارن لیز نے 152 اور رچرڈ ہیڈلی نے 81 رنز بنا کر ساتویں وکٹ کے لیے 186 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو فالو آن سے بچالیا۔ میچ ڈرا پر ختم ہوا، جس میں مجموعی طور پر 31 وکٹوں کے نقصان پر 1585 رنز بنے۔دوسرا اہم ترین ریکارڈ وقار یونس نے 31 اکتوبر 1990 کو اپنی تباہ کن بولنگ سے بنایا اور پاکستان نے نیوزی لینڈ کو وائٹ واش کردیا۔پاکستان نے فیصل آباد ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کو 65 رنز سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 3-0 سے جیت لی۔پاکستان کی پہلی اننگز صرف 102 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ نیوزی لینڈ کے کرس پرنگل نے 52 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 115 رنز کی برتری حاصل کی، جس میں ایان اسمتھ کے صرف 42 گیندوں پر بنائے گئے 62 رنز کا اہم کردار تھا۔پاکستان کی جانب سے شعیب محمد نے سیریز میں اپنی تیسری سنچری بنائی، جبکہ وقار یونس نے پہلی اننگز میں 76 رنز دے کر 7 اور دوسری اننگز میں 54 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔وقار یونس نے پوری سیریز میں 10.86 کی اوسط سے 29 وکٹیں حاصل کرکے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔تیسرا بڑا واقعہ 31 اکتوبر 1984 کو پیش آیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ میں کھیلا جانے والا دوسرا ون ڈے میچ اس وقت منسوخ کردیا گیا جب بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کی خبر سامنے آئی۔اس واقعے کے بعد بھارت کے دورے پر موجود پاکستانی ٹیم کا باقی دورہ بھی منسوخ کردیا گیا، جس میں ایک ون ڈے اور ٹیسٹ میچ شامل تھا