1000301349

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا فیصلہ کیا جائے گا، فی الحال امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔

اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ثالثی ممالک قطر اور پاکستان ہمارے مطالبات پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، ثالثوں نے جوہری معاملے پر تجاویز پیش کی ہیں جن کا جائزہ لے رہے ہیں، جوہری معاملے پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پیغام کا جائزہ لیا ہے اور اس پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا، ایران کے ساتھ وسیع مذاکرات کے لیے امریکی کوشش مثبت قدم ہے تاہم موجودہ حالات میں امریکی حکام سے ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر جے ڈی وینس کے پیغام کا مقصد اختلافات پیدا کرنا ہے تو یہ امریکا کی ایک اور غلطی ہوگی، واشنگٹن کی جانب سے ہمارے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد مذاکرات کے براہ راست یا بالواسطہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔عباس عراقچی کے مطابق ایران کی شرائط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد عائد پابندیاں اٹھانا اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنا شامل ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی تجویز واضح ہے، ایرانی شرائط پر آبنائے ہرمز کھلنے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔

متعلقہ ٹیگز:#World