1000003389

تہران (نیوز ڈیسک ) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک ماضی کے واقعات سے سبق سیکھ چکے ہوں گے، ایران کے خلاف نئی امریکی جنگ کی حمایت نہ کریں۔

روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر جاری نہیں کی جا رہیں، وہ سپریم لیڈر کی حیثیت سے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں اور ریاستی فیصلے ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای انتہائی متحرک انداز میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایران کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، خلیجی ہمسایہ ممالک کو نہیں، ایران نے خطے کے ممالک کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں ایرانی میزائل گرنے کی ذمے داری ایران پر عائد نہیں ہوتی، دوست ممالک اب سمجھ چکے ہیں کہ امریکی فوجی اڈے انہیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے بلکہ اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نئی امریکی جنگ کی حمایت نہ کریں اور امریکا کو نئی جنگ سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں، جنگ کی حوصلہ افزائی کے بجائے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔عباس عراقچی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ خطے کے ممالک ماضی کے واقعات سے سبق سیکھ چکے ہوں گے۔

متعلقہ ٹیگز:#World