1000301101

امریکی محکمۂ جنگ نے ملک بھر میں فوجی اڈوں پر فریزرز کی پراسرار خرابیوں کی تحقیقات شروع کر دیں، حکام کو شبہ ہے کہ فریزرز کو سائبر حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگست کے دوران امریکا کے کم از کم 6 فوجی اڈوں پر فریزرز نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کے لیے محفوظ کی گئی بڑی مقدار میں خوراک خراب ہو گئی۔ایریزونا کے فورٹ ہواچوکا میں فریزرز رات کے وقت اچانک ڈی فراسٹ موڈ میں چلے گئے، جس سے درجۂ حرارت بڑھ گیا اور صبح تک منجمد خوراک خراب ہو چکی تھی۔تحقیقات کے دوران بعض فریزرز کی درجۂ حرارت کی ترتیبات میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں، جس سے تخریب کاری کے خدشات پیدپینٹاگون نے تحقیقات میں امریکی سائبر کمانڈ اور آرمی کریمنل انویسٹی گیشن ڈویژن کو بھی شامل کر لیا ہے۔امریکی حکام اس معاملے پر فرانسیسی حکام سے بھی رابطے میں ہیں، جہاں رواں ماہ 350 سے زائد تجارتی مراکز کے ریفریجریشن سسٹمز کو سائبر حملے کے ذریعے متاثر کیا گیا تھا۔فرانس میں ہیکرز نے مبینہ طور پر فریزرز کے درجۂ حرارت کو تبدیل کر دیا تھا، جس کے باعث سپر مارکیٹس کو بڑی مقدار میں منجمد خوراک ضائع کرنا پڑی، بعض ریفریجریشن یونٹس اتنے گرم ہو گئے کہ ان میں آگ لگ گئی، جبکہ کاروباری اداروں کو کروڑوں یورو کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔تفتیش کاروں نے تاحال یہ تصدیق نہیں کی کہ امریکا اور فرانس میں پیش آنے والے واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن سسٹمز، خصوصاً پرانے سافٹ ویئر پر چلنے والے آلات، ہیکرز کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔واقعے نے امریکی فوجی خوراک کی فراہمی اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کی سائبر حملوں سے حفاظت پر سوالات اٹھا دیے ہیںا ہوئے

متعلقہ ٹیگز:#World