
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایک ماہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے ججز کی تنخواہوں، مراعات اورپلاٹوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔اس سے قبل پی اے سی نے اعلیٰ عدلیہ کی مراعات کے حوالے رپورٹ مانگی تھی جس پر آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ انہیں ریکارڈ تک رسائی تک نہیں مل رہی۔آج کے اجلاس میں دوبارہ یہ معاملہ اٹھایا گیا اور چیئرمین پی اے سی نے ایک ماہ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججزکی تنخواہوں، مراعات اورپلاٹوں کی تفصیلات طلب کرلیں