
تاریخ گواہ ہے کہ بھارتی سیاستدانوں نے ووٹ بینک کے لیے ہمیشہ پاکستان فیکٹر کو استعمال کیا اور جب جب بھارت کو اندرونی مسائل کا سامنا ہوا تب تب پاکستان کو بطور ولن اپنی عوام کے سامنے پیش کیامودی سرکار پاکستان کی معیشت کی دگرگوں حالت کو دیکھتے ہوے یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان ہرگز ہرگز جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے بھارت میں جاری کرپشن تنقید کا رخ موڑنے کے لیے ایڈوینچر ضروری ہے جبکہ پاکستان کے آرمی چیف اپنے بیان میں بھارت کو واضح پیغام دے چکے ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لیے کوشش کی ہے لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے، خودمختاری پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔جیسا کہ 27 فروری 2019 کو ہندوستان کو دن کی روشنی میں اس کے 2 جیٹ لڑاکا طیاروں کو مار گرا کر جواب دیا گیا۔ بھارت نے اس جگ ہنسائی پر اپنی خفت مٹانے کے لیے بہادری کی فرضی داستان لکھنے کی کوشش کی کہ ابھیندن نے پاکستان کا F-16 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے پاکستان نے متعدد مرتبہ اس انڈین دعویٰ کی تردید کی جبکہ امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکہ کے محکمۂ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی ہے اور وہ تعداد میں پورے ہیں۔لیکن بھارت اپنے ایڈوینچر اور اس درجے بری شکست کو اپنی عوام کے سامنے لانے سے قاصر تھا چنانچہ اس شکست کو خوشنما رئپر میں لپیٹتے ہوے بھارت نے ابھینندن کو پاکستان کے F-16 لڑاکا طیارے (خواب میں) مار گرانے کے بے بنیاد دعوے پر فوجی اعزاز ’ویر چکرا‘ سے نوازاحالانکہ یہ وہی ابھینندن تھا جس کا جہاز پاکستانی فضائیہ نے مار گرایا پاکستانیوں نے رج کے مرمت کے بعد فوج کے حوالے کیا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہے۔ ابھیندن کی یہ خاطر تواضع عالمی میڈیا کا حصہ رہیاس سے یہ اندازہ بخوبی ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کے جوتوں کی بھارت میں کیا قیمت ہے جسے پاکستان میں جوتے پڑیں وہ بھارت میں بڑے فوجی اعزاز ’ویر چکرا‘سے نوازا جاتا ہے بھارت ابھیندن کی اس کارکردگی سے اتنا مطمئن تھا کہ 2019 میں اسے جبری رخصت پر بھیجا گیا اور 30 ستمبر 2022 کو بھارت نے ابھینندن کو قبل از وقت ریٹائر کر دیاابھینندن پہلا بھارتی پائلٹ نہیں تھا جس کا طیارہ پاکستانی سرزمین پر گرایا گیا یا پائلٹ کو گرفتار کیا گیااس سےقبل سنہ 1999 میں کارگل کی جنگ میں پاکستان کی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے قریب انڈین فضائیہ کے دو مِگ 29 طیارے مار گرائے تھے۔ جو دو پائلٹ اس آپریشن میں شامل تھے ان میں سے پاکستان کی جانب سے ایک کو زندہ جبکہ دوسرے کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا تھااس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی طیاروں کو زمین بوس ہونے کی پرانی عادت ہے جس کی وجہ سے بھارتی MiG-21s کو “اڑتے تابوت” یا “بیوہ ساز” کے نام سے جانا جاتا ہے اس تابوت سے پائلٹ کا بچ نکلنا بھی معجزہ تصور کیا جاتا ہے بھارتی ائیر فورس میں ان چند سالوں میں 175 پائلٹ ہلاک ہو چکے ہیں جس پر پائلٹس کے لواحقین سراپا احتجاج رہیں اور ان اڑتے تابوتوں کو فضائیہ میں کرپشن کی مین وجہ قرار دیا بھارتی فضائیہ یہاں کرپشن کی وجہ سے زوال کا شکار ہے وہاں چینی فضائیہ اور پاکستانی فضائیہ اپنی فضائی قوت کو تیزی سے جدید بنا رہی ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کے تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر نے بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سے انڈین فضائیہ کے مگ کو گرایاجے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رفال کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔ یہ طیارا ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا بالکل ایسے ہی پیچھا کرتا ہے جیسے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔جے ایف-17 تھنڈر زمین پر حریف کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر حملہ کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے پاکستان کا دفاعی بجٹ چونکہ رافیل طیاروں جیسے سودوں کا متحمل نہیں ہو سکتا چنانچہ پاکستان نے مقامی طور پر اس کا توڑ تیار کیا البتہ بھارت یہاں بھی دوسروں کا دست نگر رہا بھارتی وزیر اعظم مُودی نے 2019 میں کہا تھا کہ اگر رافیل ہوتے تو بالاکوٹ کا نتیجہ مختلف ہوتا بھارت کو رافیل طیارے تو مل گئے لیکن آج تک بھارت کو سکیورٹی آسودگی ناں دے سکے بلکہ بھارتی فضائیہ کا مزید منہ کالا کر گئے رافیل طیاروں کو بھارت کا سب سے بڑا سکیورٹی سودہ کہا جارہا تھا اس میں بھارتی فضائیہ اور مودی پر کرپشن اور 60ہزار کروڑ روپے کک بیکس کا الزام لگا جس کی تحقیقات فرانس میں بھی جاری ہیںبھارتی فوج میں کرپشن کی تاریخ کچھ نئی نہیں اور نہ ہی اس کی وسعت کچھ کم ہےراشن اسکینڈل، کولکتہ سکینڈل اور پھر سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس کی طرف سے اسرائیل سے دفاعی نظام ”براک“ کی خریداری میں کمیشن، تیجا سکینڈل، فہرست خاصی طویل ہےماضی میں بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی، وکیل گوتم گھاتان اور سنجیو تیاگی برطانیہ کی کمپنی کے ساتھ 12 آگسٹاویسٹ لینڈ چوپر طیاروں کے معاہدے میں مبینہ طور پر 3 ہزار600 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوےبھارتی وزارت دفاع کے مطابق سال 2010 سے بھارتی مسلح افواج کے 1046 اہلکاروں پر بدعنوانی کے تحت مقدمات درج کئیے گئےفضائیہ کے 29 اہلکاروں جبکہ بحریہ کے 5 اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے قائم ہوےبھارتی فوج میں پائی جانے والی کرپشن کی ایک مثال1999ء میں اس وقت سامنے آئی جب کارگل کی جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی لاشیں جلانے کے لئے نئی دہلی واپس لانے کی غرض سے ایک کھیپ کے طور پر پانچ سو تابوت (بڑے ڈبے) خریدے گئے۔ ریکارڈ میں فی تابوت قیمت ڈھائی ہزار ڈالر ظاہر کی گئی جو مارکیٹ سے تیرہ گنا زیادہ تھی۔بھارتی فوج کو کرپٹ ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ رشوت دے کر ترقی حاصل کرنا اور رشوت دیکر من پسند پوسٹنگ عام ہے. اس طرح کا کیس بھارتی میڈیا کا حصہ بنا جس میں میجر جنرل عہدے کے دو افسروں میجر جنرل اشوک کمار اور میجر جنرل ایس ایس لامبا نے لیفٹیننٹ جنرل بننے کے لئے اپنے سے اوپر والوں کو رشوت دی جنہیں ترقی دینے کا اختیار حاصل تھا.سابق بھارتی آرمی چیف اور سابقہ وزیر مملکت برائے دفاع وی کے سنگھ نے ریٹائر ہونے سے پہلے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں بتایا تھا کہ ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر نے فوج کے لئے غیر معیاری ٹرکوں کی خریداری کے لئے انہیں رشوت پیش کی تھیمیجر جنرل گراقبال سنگھ کے خلاف شراب کے ٹرک چوری کرنے کے الزام سمیت بھارتی فوج کے مالیاتی جرائم کی لمبی فہرست ہےیہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوج میں پاک فوج کی نسبت تنخواہ دو گنا ہےلیکن کرپشن نے بھارتی فوج کو کھوکھلا کر دیا ہےاب بھارت کے پاس رافیل بھی ہے اور اس کے سخوئی 30 اور میراج 2 بھی چند دن قبل ٹکرا کر زمین بوس ہو گئے ہیں تمام طیاروں کے ہوتے ہوے بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے تنگ پڑوسی ملک میانمار نے رواں ماہ 10 جنوری کو گھس کر بھارت کے اندر حملہ کیا اور انڈیا کی ریاست میزورم کے ایک گاؤں میں چن نیشنل فرنٹ نامی سیاسی تنظیم کا تربیتی کیمپ تباہ کر دیا مسلح ونگ چن نیشنل آرمی کے نام سے میانمار میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔میانمار کے طیارے کب آیے اور کب کیمپ تباہ کر گئے بھارتی آرمی بےخبر رہی یہی حال انڈیا چائنہ سرحد پر ہوا چینی فوجی بھارتی سرزمین میں گھسے بھارتی فوجیوں کو اغواء کیا اور چین لے گئے جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیںجبکہ مودی سوچتا ہو گا کاش رافیل سے بڑھیا بھی کچھ ہوتا
تحریر :حجاب رندھاوا