
حکومت پاکستان پاور ہولڈنگ کمپنی پر پڑے مارک اپ کی وصولی کے لیے صارفین پر تقریباً 3 روپے فی یونٹ بجلی سرچارج عائد کرے۔آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل نیا مطالبہ کر دیا آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کو اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھنے کیلئے پاور سیکٹر پر ایک اور سرچارج لگانے کے بارے میں اپنا ذہن بنانا ہوگا۔ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی جانب سے منگل کی شام کو اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ورچوئل بات چیت ہوئی اور دونوں فریقوں نے ایک اور سرچارج لگانے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا لیکن اس کی صحیح رقم ابھی تک طے نہیں ہو سکی، آئی ایم ایف سیکٹر کے مسلسل غیرمعمولی نقصانات کے پیش نظر فوری طور پر تقریباً 3 روپے فی یونٹ بجلی سرچارج چاہتا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی فریق کو آگاہ کیا کہ ملک کی بقاء یا نقصان میں جانے والا پاور سیکٹر جمود کے ساتھ نہیں چل سکتا اس لیے ایک منٹ ضائع کیے بغیر اس شعبے میں اصلاحات کرنے کی اشد ضرورت ہے