
اگر لاہور شہر میں نکلیں تو جگہ جگہ درجنوں مہنگی ترین ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں
لیکن یہ میڈیا ان سویلین ڈی ایچ اے کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتا جنہیں کرپٹ سیاستدانوں اور سویلین بیوروکریٹس چلا رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہاں ڈی ایچ اے ڈسکس ہو سکتا ہے وہاں ہمارے میڈیا کے ان ہاوسنگ سوسائٹیز پہ بات کرتے کیوں پر جلتے ہیں آخر ایسا کیا ہے کہ ہم آسٹریلیا میں خیالی جزیرے بھی ایجاد کرتے بلجیئم کی وہ جائیداد بھی نکالتے ہیں جس کا وجود نہیں لیکن ہم ناپید ہوتی زرعی زمین کا زکر کیوں نہیں کرتے
لاہور کے ارد گرد زرعی زمینیں کدھر گئیں
وہ زمینیں جنھیں بحریہ ٹاؤن اور ایڈن ہاوسنگ سوسائٹی کھا گئ وہ ہاوسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں روپے کا فراڈ کرنے والا مرتضی امجد کس چیف جسٹس کا داماد تھا
رائیونڈ محل اور محکمہ اوقاف کی زمین کے قصے بھی آج کل خاموش اور بحریہ ٹاون میں تحفتاً بنائے گئے بم پروف بلاول ہاؤس کا بھی کہیں زکر نہیں
لاہور کو چھوڑیئے اسلام آباد کے ان پراپرٹی ٹائیکونز/ ڈیلرز اور انکی سویلین ڈی ایچ اے کہلانے والی ان سوسائٹیوں کے بارے میں بھی میڈیا خاموش ہے جنھوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ارد گرد کا تمام علاقہ گھیر رکھا ہے
ان ہاوسنگ سوسائٹیز کے بارے میں کچھ بھی منفی نہیں دکھایا جائے گا اور نہ ہی کوئی بات کی جائے گی۔ کیونکہ رب نیڑے کہ کُسن..
وزیر، جج، وفاقی سیکرٹریز اور سرکاری ملازمین ان ہاؤسنگ سوسائٹیز سے کروڑوں اور اربوں روپے کما رہے ہیں۔ میڈیا ہاوسز چونکہ کسی نہ کسی شکل میں بھتہ وصولی کر لیتے ہیں چنانچہ یہاں راوی خاموش اور شانت رہے گا
آج صرف چند محکموں کی سویلین ہاؤسنگ سوسائٹیز کا زکر خیر ہو جائے جو ڈی ایچ اے سے زیادہ منافع بخش ہیں۔
وزارت داخلہ ہاؤسنگ سوسائٹی
انٹیلی جنس بیورو ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی۔
سپریم کورٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی۔
ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی
واپڈا ہاؤسنگ سوسائٹی
پی آئی اے آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی
ایف بی آر ہاؤسنگ سوسائٹی
سی بی آر ہاؤسنگ سوسائٹی
کے پی کے ہاؤسنگ سوسائٹی
فارن آفس ہاؤسنگ سوسائٹی
ایریگیشن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی
ایف آئی اے ہاؤسنگ سوسائٹی
کسٹم پریوینٹیو آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی۔
پاکستان پوسٹ آفس ہاؤسنگ سوسائٹی
پولیس فاؤنڈیشن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی
سینیٹ سیکرٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی
این ایچ اے ہاؤسنگ سوسائٹی
وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ سوسائٹی
سی ڈی اے اسلام آباد۔
ایل ڈی اے لاہور
کے ڈی اے کراچی
عملے کے ہر رکن کو ریٹائرمنٹ کے بعد سروس بینیفٹ کے طور پر پلاٹ مل رہا ہے
ان ہاؤسنگ سوسائٹیز (سویلین ڈی ایچ اے) کے ہینڈلرز کے نام تلاش کیجیے اور پھر بتائیں پورے ملک پر کس ڈی ایچ اے کا قبضہ ہے
یہ بھی تحقیق کیجیے کہ پنجاب کی سرکاری زمین کن خاندانوں کے نام منتقل کی گئ کتنے لوگوں پہ محکمہ اینٹی کرپشن میں جعلی دستاویزات کے زریعے سرکاری زمین کی منتقلی کے کیسیز ہیں اور یہ کتنے سالوں سے کن کن ہتھکنڈوں سے زیر التوا رکھے گئے؟؟
بحث تو ہر ایک پہ ہونی چاہیے اگر آپ سویلین اداروں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کی کھلی اجازت دیں اور ڈی ایچ اے پہ صرف اس وجہ سے بحث کریں کے اس کا تعلق فوج سے ہے تو کیا یہ کھلی جانبداری یا بغض نہیں
جب ہر ادارے کی ہر شہر میں ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں تو جناب صرف ڈی ایچ اے سے بغض کیوں؟؟؟؟ ؟
حجاب رندھاوا