انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، افغانستان سے دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ، ایپکس کمیٹی کا اعلامیہ جاری

Share

ایپکس کمیٹی اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پشاورپولیس لائنز مسجد میں ہونے والے خود کش حملے اور اس کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، حساس اداروں کے نمائندوں نے سکیورٹی کی مجموعی صورتحال، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دی

پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس

انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس معظم جاہ انصاری نے خود کش حملے کی اب تک کی تحقیقات اور ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا، حملہ آور کی آمد کے طریقہ کار اور جس راستے سے وہ آیا، ویڈیوز کے ذریعے اس کی نشان دہی کر لی گئی۔اجلاس میں پشاور پولیس لائنز کے شہداءکے درجات کی بلندی، اہل خانہ کے لئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی، اجلاس نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ اُن کے پیاروں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، حکومت اور قوم شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہے، پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے، معصوم پاکستانیوں پر حملہ کرنے والے ہر صورت سزا پائیں گے۔اجلاس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر افواج پاکستان، رینجرز، ایف سی، سی ٹی ڈی، پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام پیش کیا، جام شہادت نوش کرنے والے افسران اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا، اجلاس نے تمام طبقات، میڈیا سے اپیل کی کہ بے بنیاد قیاس آرائیاں خاص طورپر سوشل میڈیا پر پھیلانے کا حصہ نہ بنیں، یہ طرزعمل قومی سلامتی کے تقاضوں، قومی یک جہتی، اتحاد کے لئے نقصان دہ ہے، اجلاس نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا، درپیش موجودہ حالات کے مطابق اس میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا۔اجلاس نے نیکٹا، سی ٹی ڈی اور پولیس کی اپ گریڈیشن کی تجاویز کی اصولی منظوری دی تربیت، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری ساز و سامان کی فراہمی کے حوالے سے تجاویز کی منظوری دی، خیبرپختونخوا میں فوری طور پر سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر تعمیر اور جدید فارنزک لیبارٹری قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، خیبرپختونخوا میں اسلام آباد اور لاہور کی طرح سیف سٹی منصوبہ شروع ہوگا، پولیس، سی ٹی ڈی کی تربیت، استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا، جدید اور آلات فراہم کئے جائیں گے، اجلاس میں بارڈر مینجمنٹ کنٹرول اور امیگریشن کے نظام کے حوالے سے جائزہ لیا گیا، دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات، پراسیکیوشن اور سزا دلانے کے مراحل پر بھی غور کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق ریاست کے تمام اعضا کو کامل یکسوئی، اشتراک عمل اور مشترکہ قومی اہداف کے حصول کے جذبے سے کام کرنا ہو گا، اس ضمن میں ضرورت کے مطابق قانون سازی کی جائے گی، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک سوچ، ایک حکمت عملی اپنانے پر اصولی اتفاق کیا، اس ضمن میں موثر حکمت عملی کی تیاری کی ہدایت کی، اجلاس نے ملک کے اندر دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے تمام ذرائع ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا، اس ضمن میں سکریننگ کی موثر کارروائی کی ہدایت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی ہر قسم اور ہر شکل کے لئے زیروٹالرنس کا رویہ قومی نصب العین ہوگا، قومی اتفاق رائے سے ان فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا، اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے اے پی سی بلانے کے فیصلے کی تحسین کی گئی اور توقع ظاہر کی گئی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام قومی سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھے گی اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے اقدامات کا فیصلہ کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar