جمہوریہ سیریل کلر

Share

بھارت ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” نہیں بلکہ محض، ”انتخابی جمہوریت” ہےبھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سرٹیفائیڈ دہشت گرد حکمران ہےبی بی سی نے برطانوی دفتر خارجہ کی ایک غیر شائع شدہ خفیہ رپورٹ پر مبنی ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جس کا ایک حصہ نشر ہو چکا ہے اس دستاویزی فلم کو بھارت نے یوٹیوب پر سے حذف کر دیا ہے اسے بھارت میں دکھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہےیہ برطانوی خفیہ رپورٹ محض مودی کو دو ہزار انسانوں کا قاتل اور دہشت گرد تنظیم کا سرپرست ہی نہیں بتاتی بلکہ بھارت کا شائننگ انڈیا اور سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ بھی مسترد کرتی ہے لیکن ظالمانہ حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت میں دہشت گرد وزیر اعظم ہونے اور سفارت کاروں کی اس کے خلاف اپنے اپنے ممالک کو خفیہ کیبل بھیجنے کے باوجود وہ بھارت کا حکمران بھی ہے اور نسل کشی کی ان کارروائیوں کو تواتر سے جاری رکھے ہوے بھی ہےاس سے بدتر حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر مسلمان، عیسائی اور دلت قتل ہو رہے ہیں جبکہ مہامنڈ لیشوروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ”ہندو راشٹر‘‘ تسلیم کرلیں گے۔بھارت میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی بھی گلی گلی ظلم کا شکار ہیںاڑیسہ میں ایک عیسائی مبلغ کو اس کے مذہب اور مبلغ ہونے کے جرم میں اسکے دو نابالغ بچوں کے سامنے سیریل کلر دارا سنگھ نے زندہ جلا دیا۔ آر ایس ایس نے ہندوستان بھر کے ریلوے اسٹیشنوں پر پچھلے سال نشانیاں لگی ہوئی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ عیسائیوں کو ہندوستان چھوڑنا ہوگا یا ہندو مذہب اختیار کرنا ہوگا ورنہ انہیں اگلے سال تک قتل کردیا جائے گاہندوستان میں 160 ملین سے زیادہ لوگوں کو “اچھوت” تصور کیا جاتا ہےبھارت میں ہر روز 6 دلت زندہ جلا دئیے جاتے ہیں یا پھر پاس سے گزرنے اور چھو جانے کے جرم میں قتل کر دئیے جاتے ہیںبھارت میں 52268 سکھوں کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے سیاسی قیدیوں کے طور پر رکھا گیا ہے۔جب سے بی جے اقتدار میں آئی ہے اس وقت سے ساٹھ ہزار افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہےبھارت کی جیلیں زیادہ تر دلت، عیسائی، بدھسٹ اور مسلمانوں پر مشتمل ہوتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ ہندوتوا کے تشدد سے بچ گئے تو پولیس آپ کو جیل میں ڈال دے گی۔اس سب کے باوجود بھارت کا دعویٰ کہ وہ سب سے بڑی جمہوریہ ہے ایک سنگین مذاق ہےان انسانوں کے ساتھ جو اس سرزمین پر دہائیوں سے آباد ہیں انکے اجداد اس سرزمین کے مالک تھے جنھیں آج بھارت میں مذہب کی بنیاد پر دو گز زمین میسر نہیںانسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے فاشسٹ ازم پر سراپا احتجاج ہیں برطانیہ امریکہ سمیت بہت سے ممالک بھارت میں مظالم کی خفیہ تحقیقات کروانے کے باوجود بےبس نظر آ رہے ہیں یا کہ مفادات انسانیت پر حاوی ہیںبھارت قتل گری کا سالانہ سرکل مکمل کرتے ہوے 26 جنوری کو “یوم جمہوریہ” منانے جا رہا ہےلیکن ہیومن فریڈم انڈیکس کے مطابق بھارت میں جمہوریت اور آزادی کا درجہ 94 سے گر کر111 ہو گیا ہے۔ سویڈن کے معروف ادارے ‘وی – ڈیم’ نے بھارتی جمہوریت سے متعلق اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بھارت کو، ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” کے بجائے اس کا درجہ کم تر کرتے ہوئے اب اسے محض، ”انتخابی جمہوریت” قرار دیا ہےامریکی ادارے ‘فریڈم ہاؤس’ نے بھی آزادی کے لحاظ سے بھارت کا درجہ کم تر کرتے ہوئے اسے آزاد ملک سے جزوی طور پر آزادملک کی فہرست میں ڈال دیا ہےان ممالک کے تھنک ٹینک بھارت میں نسلی جمہوریت کی پیش گوئی کر رہے ہے، جہاں جمہوری حقوق چند نسلی گروہوں تک محدود ہوں گے اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہریوں کے بطور زندگی گزارنی ہو گی۔ انتہا پسندی اس حد تک پہنچ جائے گی، جہاں سے لوٹنا ناممکن ہو گا۔جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیںلیکن یہاں سوال یہ کہ بھارت میں ہندووں کے علاوہ کسے اختیارات حاصل ہیں بھارت کس بنیاد پر جمہوریت کا دعوے دار ہے؟؟؟بھارت میں اس فاشسٹ حکمرانی کے خلاف آواز اٹھانے کے تصور کو یکسر ختم کر دیا گیا ہے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ملک کے کئی بڑے میڈیا چینلز خرید لئیے ہیں حال ہی میں مودی نے اپنے فرنٹ مین گوتم اڈانی کے زریعے این ڈی ٹی وی کو خرید کر اپنے خلاف اٹھنے والی آخری آواز کا بھی گلا گھونٹ دیا ہے.جس کے بعد بھارت میں میڈیا کی بجائے اب گودی میڈیا اصطلاح عام ہے جہاں ایک مذہب کے علاوہ باقی مذاہب کو پنپنے کی اجازت نا ہو ظلم کے خلاف بولنے والی آوازیں خرید لی جائیں یا دبا دی جائیں کیا وہ جمہوری ہے؟؟؟

تحریر حجاب رندھاوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar