
بھارت میں میجر گورو آریا فوج سے ریٹائرڈ ہوا لیکن اپنے ادارے کے مفادات کے لیے سینہ سپر ہوگیا اس نے بھارت کے لیے سوشل میڈیا پر ڈٹ کر کام کیا پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہر اس پراپگنڈے پر دن رات کام کیا جو کہ پاکستان کو زک پہنچا سکتا تھا یہ اس کا اپنے وطن کے لیے پیار تھادوسری طرف پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر عادل راجہ ہیں شورش زدہ علاقے میں ڈیوٹی لگنے پر بذات خود ریٹائرمنٹ لی وجوہات میں ذہنی حالت، بیوہ ماں اور طلاق یافتہ بہن کو وجہ بتاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا لیکن انتہائی دلچسپ امر یہ تھا کہ جو وجوہات بتا کر استعفیٰ دیا انھی وجوہات کو بےاسرا چھوڑ کر بیرون ملک جا بیٹھاپھر نا بیوہ ضعیف ماں یاد رہیاور نا طلاق یا فتہ بہنوہ اکثر اپنے قریبی ساتھیوں کو کہتا تھا وہ فوج میں رہا تو ضرور کسی دن کسی محاز پر خرچ ہو جائے گا اس سے پہلے کہ کسی گولی پر اس کا نام لکھا جائےوہ فوج کو چھوڑ دینا چاہتا تھا اسے صرف 15 سال پورے ہونے کا انتظار تھا کیونکہ ضابطہ کار کے تحت جب کوئی فوجی افسر 15 سال سروس کر لیتا ہے تو پھر وہ ایک پلاٹ اور مراعات کا حقدار ہو جاتا ہے۔یہ چوری کھانے والا مجنوں تھا جبکہ فوج کا ادارہ ملک کے لیے جان کا متقاضی رہتا ہے چنانچہ یہاں اس خود ساختہ غازی نے جو ملا وہ سمیٹا اور بیوہ ماں طلاق یافتہ بہن زہنی حالت کو جواز بناتا اس ادارے کو چھوڑ گیاآپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جو لوگ عملی زندگی میں ناکام ہوتے ہیں وہ اپنی خیالاتی دنیا کے ہیرو ہوتے ہیں آج عادل راجہ معاشرے میں عزت پانے کے لیے جنگی زخمی ہیرو اور غاذی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ کسی محاز پر زخمی ہوا تو وہ تمغے کدھر ہیں جن سے کسی بھی محاز جنگ کے زخمی ہیروز کو نوازا جاتا ہے، کیا وجہ ہے کہ جس محاز پر آفیسرز کو تمغے ملتے اس واقعے کے بعد عادل راجہ کو وارننگ دی جاتی تھی۔ عادل راجہ کی خود ساختہ شجاعت اور غازئیت کا قصہ حقیقت سے انتہائی متضاد ہےشجاعت ایسی کہ شورش زدہ ایریا میں ڈیوٹی لگنے پر استعفیٰ دے دیااور غازی ایسا کہ موصوف نے شورش زدہ علاقے میں ادارے کی کلئیر ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوے ڈیوٹی کے دوران اپنی دلچسپیاں تلاش کرنے کی کوشش کی اسی پکنک کے دوران بم حملہ ہوا تو ڈر کے مارے اندھا دھند فائرنگ کر کے سویلین قتل کر ڈالےکیا 15 سال کی سروس میں عادل راجہ فوج کی بنیادی تربیت سے واقف نہیں تھا فوجی دہشت گرد یا مشکوک مسلح شخص کو نشانہ بناتا ہے وہ بنا جانے کہ گولی کس نے چلائی یا حملہ آور کون ہے سامنے کھڑی عوام کو نہیں بھون سکتاکیا جن کی حفاظت کی اسے تنخواہ ملی انھیں ہی گولیوں سے بھون کر وہ غازی شجاع ٹھہرا؟؟ عادل راجہ کی بزدلی کے قصے فوج میں مشہور تھےاس واقعے میں عادل راجہ کی بزدلی کے باعث 1 سپاہی شہید ہوا اور چند عام شہری بھی جان سے گئے۔ اس واقعے کی انکوائری ہوئی واقعے میں خودساختہ زخمی وار ہیرو کا ڈرامہ بےنقاب ہوگیا جس پر عادل راجہ نے نفسیاتی مریض ہونے کا ڈرامہ رچایا اور انکوائری کمیشن کے قدموں میں گر پڑا اور کہا کہ اس نے خوف کی وجہ سے اپنے حواس کھو دیے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس انکوائری میں گناہ گار پایا گیا لیکن انکوائری کمیشن کے منت ترلے کی وجہ سے سزا سے محفوظ رہا لہزا نتیجہ وارننگ تک محدود رہا اسے انکوائری کے بعد اسے علم ہو چکا تھا کہ اس کا کئیرئر بک ہو چکا ترقی ممکن نہیں کیونکہ اس پر فوج میں بزدلی کا لیبل لگ چکا تھا اس لیے اس نے اپنی زہنی حالت کو جواز بناتے ہوے 15 سال پورے ہونے پر مراعات سمیٹ کر ادارے سے الگ ہونے میں عافیت جانی کیونکہ پھر کسی محاز پر پہنچنے کے آرڈرز کی شنید تھی عادل راجہ کا پورا خاندان یورپ میں مقیم تھا اسے اس نوکری سے دلچسپی نا تھی فوج چھوڑنے سے پہلے وہ پراپرٹی ڈیلنگ میں ملوث تھا اور ہنی رشید (لاہور میں مقیم دلال) سے ملکر کام کر رہا تھا اس کاروبار میں بااثر لوگوں کو شامل کرنے کے لیے وہ ایلیٹ کلاس کے لیے ڈانس پارٹیوں کا اہتمام کرتا لڑکیاں اور شراب سپلائی کرتا اور ان لڑکیوں کو مختلف لوگوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کرتا۔عادل راجہ کی انھی عادات کے باعث اس کی پہلی بیوی نے عدالت سے رجوع کرتے ہوے طلاق لے لی عادل راجہ کی پہلی بیوی کے مطابق وہ منشیات کا عادی مجروں کا رسیا تھا شراب پی کر اس پر بےپناہ تشدد کرتا تھاعادل راجہ کو فوج میں اپنی جان ضائع نہیں کرنی تھی لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد اسے اپنی سرگرمیوں کے لیے فوج کے نام اور شیلٹر کی ضرورت تھی چنانچہ اس نے نوکری کے لیے فوج سے درخواست کی۔ جیسا کہ فوج ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے ملازمین کی دیکھ بھال کرتی ہے، اسے دفاعی تجزیہ کار کے طور پر تربیت، نوکری دے دی گئی اس وقت اس نے ایک نہایت شریف اور نامور بلاگر کے ساتھ فراڈ کیا۔ وہ اس سے بلاگز لکھواتا اس بلاگر کو ان بلاگز کی معمولی رقم ادا کرکے اپنے نام پر پوسٹ کرتا رہا۔یوں کسی کی محنت پر اپنی دانشوری کی دھاک بٹھاتا رہا اب تو خیر ڈائرکٹ را سے لکھا لکھایا ملتا ہے عادل راجہ میں اتنی اہلیت بھی نہیں کہ خود سے کسی کو اپنا پوائنٹ آف ویو سمجھا سکے چنانچہ جو سوال کرے اسے بلاک کر کے اپنی دانشوری قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے دفاعی تجزیہ نگاری کے دوران عادل راجہ نے پیسہ کمانے کے اپنے اہم مشن کو تیز کر دیا اور انٹیلی جنس افسر ہونے کا روپ دھار کر زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ پہلی ایف آئی آر 5 ستمبر 2021 کو روات میں زمینوں پر قبضے کے الزام میں، دوسری 29 اکتوبر 21 کو اسلام آباد میں اور 2 مارچ کو ان کے اور اس کے بہنوئی عمر زمان کے خلاف انسانی سمگلنگ کے الزام میں درج کی گئی تھی کیونکہ انہوں نے لوگوں سے 25 لاکھ روپے ہتھیایے اور فرار ہو گیا ایف آئی اے عادل راجہ کے پیچھے تھی اسی لیے اس نے اپنی دوسری بیوی کی مدد لے کر برطانیہ کے لیے ویزا کا بندوبست کیا۔ اسی دوران 9 اپریل کو اس نے چھاپے کا ڈرامہ رچایا اور فرار ہوگیا مفرور ہو کر سیاسی منقسم ماحول کا فائدہ اٹھایا اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کہانیاں گھڑی یہ کہنا بےجا نا ہوگا کہ اس نے شہرت کے لیے فوج اور پی ٹی آئی فینز میں تلخیاں پیدا کئیں فوج مخالف موقف کی وجہ سے اپنی مقبولیت میں اضافہ دیکھ کر اس نے اس ادارے کے خلاف بھونکنا شروع کر دیا جس نے اس کی تین نسلوں کو پالا تھا۔ من گھڑت کہانیوں سے اس نے سوشل میڈیا پر زندہ رہنے کا ہنر ڈھونڈ لیا تھا ۔ عملی زندگی میں گیدڑ خیالی دنیا میں لیڈر بننے کے لیے روز نئ کہانیاں گھڑتا ہے اس کے پاک فوج مخالف بیانیہ بنانے کے کارآمد گُر کو دیکھ کر اسے MI 6 اور RAW نے ہائر کیا جس نے اس کی فوج مخالف سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا۔ را نے اس کی اس اہلیت کو دیکھتے ہوے اسے اپنی پاکستان مخالف این جی او انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کا سربراہ بنا دیا۔عادل راجہ نے دوسری شادی اپنے ہی جیسی عادات کی حامل عورت سبین سے کی سبین اور راجہ کی بہت سی عادتیں مشترک تھیں خاص طور پر منشیات اور شراب۔ سبین کالج اور یونیورسٹی میں گولڈ ڈیگر مشہور تھی، جو امیر مرد دیکھتی اس کے پیچھے چل پڑتی اس کا چشم گرامر نامی ایک امیر لڑکے کے ساتھ افیئر ملٹن کینز کی پاکستانی کمیونٹی میں مشہور تھا، سبین نے دولت پانے کے لیے کبھی حدود قیود کا خیال نہیں رکھا جسمانی تعلقات سبین کا اہم ہتھیار ہے سبین کے جنسی تعلقات کے بدلے شاپنگ اور آسائشیں حاصل کرنے سے کون واقف نہیں جان لیویز میں کام کرنے والے پاکستانی ورکرز کو اس کے مختلف بوائے فرینڈز کے ساتھ اسٹورز پر مہنگی ترین شاپنگ کے لیے آنا یاد ہوگا پاپ ورلڈ ڈسکو کے ویٹر اس کی پب یاترا آج بھی یاد کرتے ہیں مفت مشروبات کے لیے وہ ویٹرز کو اپنے سے کھیلنے کے مواقع فراہم کرتی تھی عادل راجہ آج پاکستان کی موجودہ صورتحال کو کیش کروا کر پاکستان مخالف ایجینسز کے لیے کام کر رہا ہے لیکن اسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ٹاوٹ ہمیشہ ٹشو پیپر ہوتے ہیں اثاثے نہیں آج آپ پاکستانی قوم کو منقسم کرنے کے ایجنڈے پر ہیں لیکن آپ کا مستقبل کیا ہوگا کیا کبھی غدار بھی عزت مآب ہوئے؟.
تحریر :حجاب رندھاوا