
کیتھولک چرچ کے سابق سربراہ پوپ بینیڈکٹ 16 ویٹیکن میں اپنی رہائش گاہ میں وفات پا گئے ہیں۔ وفات کے وقت ان کی عمر 95 برس تھی۔ اُنھوں نے 2005 سے 2013 تک کیتھولک چرچ کی سربراہی کی جس کے بعد وہ خرابی صحت کی وجہ سے اس عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔ وہ سنہ 1415 میں پوپ گریگوری 12 کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے والے پہلے پوپ تھے۔ پوپ بینیڈکٹ نے اپنے آخری برس ویٹیکن کے اندر ایک خانقاہ میں گزارے اور ان کے جانشین پوپ فرانسس کے مطابق وہ ان سے اکثر ملنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ ویٹیکن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق پوپ کی میت کو دو جنوری سے سینٹ پیٹرز بیسیلیکا گرجا گھر میں رکھا جائے گا جہاں لوگ ان کا دیدار کر سکیں گے۔ ترجمان کے مطابق پانچ جنوری کو سینٹ پیٹرز سکوائر میں ان کی آخری رسومات پوپ فرانسس ادا کروائیں گے۔ انگیلنڈ اور ویلز میں کیتھولک چرچ کے سربراہ کارڈینل ونسینٹ نکولس نے کہا کہ پوپ بینیڈکٹ ’20 ویں صدی کے عظیم ترین علمائے کلام میں سے تھے، برطانیہ کے وزیرِ اعظم رشی سونک، فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں، اٹلی کی وزیرِ اعظم جیورجیا میلونی، جرمنی کے چانسلر اولاف شولز، آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہگنز اور آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبی سمیت کئی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے ان کی موت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ سابق پوپ کافی عرصے سے علیل تھے مگر ویٹیکن کے حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے ان کی صحت مزید بگڑ رہی تھی۔ بدھ کو پوپ فرانسس نے سال کے اپنے آخری خطاب میں لوگوں سے کہا کہ وہ سابق پوپ کے لیے ’خصوصی دعا‘ کریں۔ پوپ بینیڈکٹ کا اصل نام جوزف ریٹزنگر تھا اور وہ جرمنی میں پیدا ہوئے تھے۔ جب وہ پوپ منتخب ہوئے تو ان کی عمر 78 برس تھی، چنانچہ وہ اس عہدے پر آنے والے سب سے طویل العمر شخص تھے۔ ان کے دورِ پاپائیت میں کیتھولک چرچ مبینہ طور پر کئی دہائیوں تک پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات، قانونی دعووں اور سرکاری رپورٹس کی زد میں رہا۔ رواں سال کے آغاز میں سابق پوپ نے تسلیم کیا کہ جب وہ 1977 سے 1982 کے درمیان آرچ بشپ آف میونخ تھے، تو جنسی استحصال کے کیسز میں ان سے غلطیاں ہوئی۔