
امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو فوری طور پر نئے امدادی پیکج کے تحت 725 ملین ڈالر مالیت کا بارودی سامان اور جنگی گاڑیاں دینے کے لیے تیار ہے ۔ تاہم اس نئی امدادی کھیپ میں فضائی دفاعی نظام سے متعلق آلات نمایاں نہیں ہوں گے۔اس پیکج کے عملی شکل اختیار کرنے کے بعد یوکرین کو اب تک امریکہ کی طرف سے دی گئی فوجی امداد کی مالیت 17،5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

امریکہ یوکرین کو یہ امداد 24 فروری کے بعد سے دے رہا ہے جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔امریکی حکام نے اس نئے امدادی پیکج کے بارے میں بتایا یہ فوری بروئے کار ہو گا، نیز روس کی طرف سے یوکرین کے مختلف شہروں پر حالیہ بمباری کے بعد امریکہ کا پہلا امدادی پیکج ہو گا۔ ان امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک پیکج کا حتمی طور پر اور باضابطہ اعلان نہیں ہو جاتا اس پیکج کی مالیت اور اس میں شامل جنگی سامان میں تبدیلی یا اضافہ کمی ہو سکتی ہے۔امکانی طور پر یہ پیکج پچھلے ہفتے یوکرین کو بھیجے گئے امدادی پیکج سے مختلف ہو سکتا ہے۔
واضح رہے پچھلے ہفتے بھجوائے گئے امدادی پیکج میں میزائل شامل تھے۔ وہ پیکج روس کے میزائل حملوں کو جوابی شکست دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا جس کے فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ یوکرین کو اسی ہفتے امریکہ اور جرمنی کی طرف سے جدید ترین طیارہ شکن نظام مل جائے گا، جس میں میزائل حملوں اور ڈرونز کا جواب دینے کی اہلیت بھی ہو گی۔یہ امدادی پیکج صدر امریکہ کے خصوصی اختیار ‘پریزیڈنشل ڈراڈاون اتھارٹی ‘ کے تحت دیا جارہا ہے۔ اس اختیار کے تحت صدر کو یہ اختیار ہے کہ فوری طور پر امریکی سٹاک میں سے کسی ملک کو فوجی امداد دے سکیں۔ اس اختیار کے تحت صدر کو کانگریس سے پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔یوکرین کے لیے امریکی مالی سال 2023 کے دوران یہ دوسرا پی ڈی اے پیکج ہو گا۔ یہ اختیار مجموعی طور پر امریکی صدر کو دسمبر کے وسط تک 3،7 ارب ڈالر کی فوجی امداد دوسرے ملکوں کو دینے کا اختیار دیتا ہے