سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا: دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں، قومی اداروں کی رپورٹس

Share

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) خیبرپختونخوا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے حملوں کو نہیں روک سکتا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کو کوئی مراعات حاصل نہیں، سی ٹی ڈی پنجاب اور سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی تنخواہوں میں 70 فیصد کا فرق ہے، خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کےاہلکاروں کی رہائش کا بھی کوئی بندوبست نہیں۔بنوں واقعہ میں سی ٹی ڈی دفتر ایک کرائے کے مکان میں بنایا گیا جس میں پانچ سیکیورٹی اہلکاروں کو 35خطرناک ترین دہشت گردوں کی سیکیورٹی پر مامور کیا گیا۔ نہ اُن کے پاس مناسب اسلحہ تھا نہ ہی ٹریننگ۔ خیبرپختونخوا میں ’پی ایس پی‘ رینک کے سینیئر افسران کی شدیدکمی ہے، ایس ایس پی رینک کا صرف ایک افسر ڈی آئی جی کے طور پرکام کررہا ہے، اس کے مقابلے میں سی ٹی ڈی پنجاب کے پاس 15 سے 18 ایس ایس پی رینک کے افسران اور 2 ڈی آئی جی ہیں،ایک برس کے دوران پنجاب میں دہشت گردی کے 3 واقعات ہوئے جب کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 300 واقعات ہوئے اور بھاری جانی نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اور عمران خان کی وزارت عظمیٰ کےدوران کئی بار قومی اداروں نے خبردار کیا گیا لیکن باربار کی یقین دہانیوں کے باوجود اس ضمن میں کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، سی ٹی ڈی پنجاب کے پاس’ریوارڈ فنڈ‘ میں 27 کروڑ 60 لاکھ روپے کی رقم موجود ہے جب کہ خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس ڈھائی کروڑ روپےکی رقم ہےسی ٹی ڈی شہداء پیکج پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 150 فیصد کا فرق ہے۔ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کو کوئی مراعات حاصل نہیں، خیبر پختونخوا میں شہداء پیکج کے لیے بھی مناسب رقوم دستیاب نہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar