
قومی اسمبلی اسپیکر سیکرٹریٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جگہ سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو پارلیمانی گروپ لیڈر قرار دے دیا ہے۔عمران خان کا رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے کردار ختم کردیا گیا ہے۔ اس طرح انہیں تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفے قبول کرنے کا بھی اختیار نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف اب بھی اپنے ارکان کے استعفوں کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کے مرحلے میں ہے۔ سیکرٹریٹ کے مطابق استعفے قبول یا مسترد کرنے کا اختیار اسپیکر کو حاصل ہے۔ قبل ازیں وہ پہلے ارکان قومی اسمبلی سے انفرادی طور پر ملیں گے۔ پھر فیصلہ آئین اور متعلقہ قوانین کے تحت کیا جائے گا۔ کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جائے گا۔سپیکرقومی اسمبلی راجا پرویز نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی ایک کے کہنے پر تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفے قبول نہیں کریں گے۔ جب استعفوں پر غور کا وقت یا موقع آئے گا تو ہر رکن سے انفرادی طور پر دریافت کیا جائےگا۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے لکھے خط کے بارے میں استفسار پر اسپیکر نے کہا کہ وہ شاہ محمود سے استعفے قبول کرنے کے بارے میں ان کی حیثیت دریافت کریں گے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کے بارے میں راجا پرویز اشرف نے کہا اگر انہوں نے ایوان زیریں کا رخ کیا تو انہیں باہر کا راستہ دکھادیا جائے گااور وہ رکنیت کےلیے نا اہل قرار دیئے جائیں گے۔