
بھارت میں ایک سال کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے زائد ہو گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں ایک سال کے دوران موسمی تبدیلی کی وجہ سے ہیٹ ویوز اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں اموات بھی 3 سال میں سب سے زیادہ ہوئیں۔بھارت کی جانب سے اس حوالے سے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ جس میں سائنسدانوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو ان اموات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔وزارت ارتھ سائنسز نے پارلیمنٹ کو جاری ایک رپورٹ میں کہا کہ اس سال گرمی کی لہر 8 گنا زیادہ تھی جبکہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بھی 111 گنا اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے 907 افراد ہلاک ہو گئے۔اس سال گزشتہ ماہ تک موسمیاتی تبدیلیوں کے واقعات کی وجہ سے 2,183 اموات ہوئیں جو کہ 2019 کے 3,017 کے بعد سب سے زیادہ تھیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال ہونے والی اموات میں سے 78 فیصد آسمانی بجلی گرنے ، سیلاب اور شدید بارشوں سے ہوئیں۔حکومت نے کہا کہ بھارت کے مون سون کے موسم کے دوران درجہ حرارت اس صدی میں بڑھ گیا ہے اور ملک مستقبل میں مزید گرمی کی لہریں دیکھ سکتا ہے۔ بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا کاربن آلودگی پھیلانے والا ملک ہے، حالانکہ اس کا فی کس اخراج بہت سے ترقی یافتہ ممالک سے بہت کم ہے۔تقریباً 1.4 بلین کی آبادی والے ملک کو ایک صدی سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ گرم مارچ کا سامنا کرنا پڑا اور اپریل اور مئی میں بھی درجہ حرارت غیر معمولی طور پر زیادہ تھا، جس کا ذمہ دار بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلی کو ٹھہرایا گیا۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ 1998 سے 2017 تک دنیا بھر میں ہیٹ ویوز کی وجہ سے 166,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 2030 اور 2050 کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غذائی قلت، ملیریا، اسہال اور گرمی کے دباؤ سے سالانہ 250,000 اضافی اموات متوقع ہیں۔رپورٹ میں پاکستان میں اس سال آنے والے تباہ کن سیلاب کا ذکر تھا جس نے ملک کے ایک تہائی حصے کو کور کیا، 1500 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے۔