
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے، جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہبازشریف سے الگ الگ الوداعی ملاقاتیں کی ہیں ایوان صدر میں ملاقات کےموقع پر صدرِ پاکستان عارف علوی نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی دفاعی شعبے میں خدمات کو سراہا۔صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملک اور پاک فوج کے لیے خدمات کی تعریف بھی کی۔صدرِ عارف علوی کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الوداعی ملاقات کی، وزیراعظم نے آرمی چیف کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیٹف، کورونا، سیلاب اور مختلف بحرانوں میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فوج نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔وزیراعظم نے جیواکنامکس کی اہمیت سے متعلق جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو میثاق معیشت پر دستخط کرکے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے عفریت کو کچلنے کے لئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فوج نے شجاعت و بہادری سے کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے سپہ سالار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دنیا کی بہترین آرمی کی قیادت کا باعث فخر اعزاز حاصل ہوا۔انہوں نے پاک فوج، ملکی دفاع اور قومی مفادات کیلئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات کو سراہا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاریخ کے ایک مشکل مرحلے پر پاک فوج کی قیادت کی، دفاع پاکستان ناقابل تسخیر بنانے میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے قائدانہ کردار سے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں سمت کا تعین ہوا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی امور کی انجام دہی میں بھرپور تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا