
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے مختلف مواقع پر دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران سے ڈیل بہت قریب ہے اور تہران کئی سمجھوتوں کے لیے تیار ہوگیا ہے، تاہم سی این این کے مطابق تاحال رکاوٹوں کے کئی اشارے مل رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ منگل کو ختم ہونے والی جنگ بندی کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے اور ایران نے ڈیل نہ کی تو حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا جائے گاسی این این کے مطابق افزودہ یورینیئم کا معاملہ رکاوٹوں میں سر فہرست نظر آرہا ہے۔ ٹرمپ نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام اس کی تردید کر رہے ہیں۔مذاکرات سے جڑے ذرائع کے مطابق ایران نے تجویز دی تھی کہ 60 فیصد افزودہ کیے ہوئے 400 کلوگرام یورینیئم کے بدلے نہ صرف ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں، بلکہ 20 ارب ڈالرز کے مساوی ایرانی منجمد اثاثے بھی بحال کیے جائیں، ایران اپنےپچھلے ہفتے ہوئے مذاکرات میں امریکا نے ایران سے اپنا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران یہ پروگرام 5 سال کے لیے روکنے کو تیار ہوگیا تھا۔ جسے امریکا نے مسترد کردیا تھا۔آبنائے ہُرمُز کھولنا بھی امریکی مطالبات میں سر فہرست ہے۔ ایران آبنائے ہُرمُز کھولنے کو تیار ہے، تاہم وہ چاہتا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved