
عربی دنیا میں اسے سرمہ کہا جاتا ہے، مگر دنیا کے مختلف خطوں میں اس کے الگ نام ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کاجل، نائیجیریا میں تیرو اور ایران میں سورمہ پکارا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ اینٹیمونی، سیسہ یا دیگر معدنیات سے تیار کیا جاتا تھا جبکہ جدید سرمہ کی مصنوعات میں مختلف اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔یہ سنگھار برطانوی-لبنانی مصنفہ زہرہ ہنکر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جن کا خاندان 1975 کی خانہ جنگی کے دوران لبنان سے برطانیہ منتقل ہوا۔مصر کی ملکہ نفرتیتی شاید سرمے کے استعمال والی پہلی ’انفلوئنسر‘ تھیں۔ سنہ 1912 میں جرمن ماہرِ آثارِ قدیمہ لوڈوِگ بورخاردت کی سربراہی میں دریافت ہونے والے نفرتیتی کے مشہور مجسمے میں انھوں نے واضح طور پر سرمہ استعمال کر رکھا قدیم تہذیبوں جیسے مصر، میسوپوٹیمیا اور فارس میں سرمہ کی جڑیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ زہرہ ہنکر کے مطابق مصرِ قدیم میں یہ ہر شخص استعمال کرتا تھا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب۔ ’وہ اسے صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ روحانیت کے اظہار اور آنکھوں کو بیماری سے بچانے کے لیے بھی لگاتے تھے۔‘قدیم مصری اپنے ساتھ سرمہ کے برتن قبر میں دفن کرتے تاکہ اسے آخرت میں بھی ساتھ لے جا سکیں، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved