2025 کے تنازعات اور امریکی حملوں کے بعد ایران کے پاس کس نوعیت کا اسلحہ باقی رہ گیا ہے؟

Share

2025 کے دوران امریکی حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق ایران اب بھی کئی اہم ہتھیاروں اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملیوں پر انحصار کر رہا ہے

ایران کے پاس اب بھی شہاب، قدر اور خرمشہر جیسے میزائل موجود ہیں، جو خطے میں طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کے تیار کردہ ڈرونز امریکی حملوں کے بعد بھی فعال ہیں اور انہیں نگرانی اور حملوں دونوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ایئر ڈیفنس سسٹمز: روسی S-300 اور مقامی باور-373 جیسے نظام اب بھی ایران کے پاس موجود ہیں، اگرچہ ان کی کارکردگی محدود ہے۔بحریہ: چھوٹی میزائل کشتیوں اور غیر روایتی حکمتِ عملی کے ذریعے ایران خلیج فارس میں امریکی اور اتحادی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔پراکسی فورسز: حزب اللہ، حوثی اور عراقی ملیشیا جیسے گروہ ایران کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو براہِ راست تصادم کے بجائے غیر روایتی جنگ میں برتری دیتے ہیں۔

Check Also

استنبول میں سمندری طوفان، بارش اور برف باری

Share ترکیے کے شہر استنبول میں سمندری طوفان کے زیر اثر موسلا دھار بارش اور …