
ایلون مسک کے الٹی میٹم میں کہا گیا کہ ملازمین زیادہ دیر تک سخت محنت سے کام کریں یا ملازمت چھوڑ دیں۔ جسکے بعد ایک اندازے کے مطابق ٹوئٹر کے سینکڑوں ملازمین نئے مالک ایلون مسک کے الٹی میٹم کے بعد سوشل میڈیا کمپنی چھوڑ رہے ہیں بلائنڈ نامی ایپ، جو دفتری ای میل ایڈریس سے صارفین کی تصدیق کرتی ہے اور انہیں گم نام طور پر معلومات شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، پر ایک پول کروایا گیا جس کے مطابق 180 میں سے 42 فیصد افراد نے اپنے جواب میں’ چھوڑنے‘ کا آپشن چنا۔ایک چوتھائی نے کہا کہ انہوں نے’ نہ چاہتے ہوئے‘ ملازمت جاری رکھنے کا انتخاب کیا اور سروے کے شرکا میں سے صرف سات فیصد نے کہا کہ انہوں نے ’ملازمت جاری‘ رکھنے کے لیے ہاں پر کلک کیا۔ٹوئٹر کے ایک حال ہی میں ملازمت چھوڑنے والے ملازم نے، جو کمپنی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، کہا کہ مسک کچھ بڑے عہدے داروں سے ملاقات کر کے انہیں ملازمت پر رہنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ کتنے ملازمین نے کمپنی میں رہنے کا انتخاب کیا ہے، لیکن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایسی کمپنی جہاں سے مسک نے بڑے عہدے داروں سمیت آدھے ملازمین کو نکال دیا، وہاں کچھ لوگ ہچکچاہٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ کمپنی نے ملازمین کو مطلع کیا کہ وہ پیر تک اپنے دفاتر کو بند کردے گی اور دفتری کارڈ سے بھی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے جمعرات کی شام سے ملازمین کو دفتر سے باہر نکالنا شروع کر دیا تھا۔مسک نے جمعرات کو رات گئے ٹوئٹر پر کہا کہ ’وہ استعفوں کے بارے میں فکر مند نہیں کیونکہ بہترین لوگ نہیں جا رہے۔‘استعفوں کی بھرمار کے درمیان ارب پتی مالک نے یہ بھی کہا کہ ٹوئٹر استعمال میں اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔انہوں نے وضاحت کیے بغیر ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہم ٹوئٹر کے استعمال میں اب تک ایک اور بلند ترین سطح تک پہنچ گئے۔‘ٹوئٹر نے، جس کی کمیونیکیشن ٹیم کے بہت سے ارکان چھوڑ چکے ہیں، تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا