
ایران نے اعلان کردیا کہ وہ اسرائیل سے انتقام لینے کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔تفصیلات کے مطابق ایرانی نگراں وزیر خارجہ کا یواین سیکریٹری جنرل سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ علی باقری نے کہا اسماعیل ہنیہ کو شہید کرکے ایران کی قومی سلامتی پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے علاقائی استحکام کی خلاف ورزی کی ہے، اسرائیل نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کیا ہے، امن و استحکام کے لیے عالمی برادری اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو۔علی باقری نے مزید کہا کہ عالمی برادری غزہ میں جرائم روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے، مجرم صیہونیوں کومتناسب سزا دینے کا حق نہیں چھوڑیں گے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید فائٹرجیٹ اور بحری جنگی جہاز تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ ایران، حماس اور حزب اللہ کی جانب سے خطرے کے پیش نظر دفاعی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے بحری کروزر اور تباہ کن جہاز مشرق وسطیٰ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ سے ہٹ کر بھی لڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور کسی بھی صورتِ حال کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہ بات انہوں نے ایرانی کی طرف سے ممکنہ حملے سے متعلق قیاس آرائیاں پھیلنے پر کہی ہے۔