
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف سے کبھی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، لانگ مارچ منگل کے بجائے بدھ سے شروع ہوگا، میرا لانگ مارچ ہر صورت میں منزل حاصل کرے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی قیادت اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کریں گے، الیکشن کی تاریخ لے کر ہی واپس آئیں گے،عمران خان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہماری ہے اور اس کے خلاف جانا ممکن نہیں۔ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ سرحدوں پر کھڑے فوجی میرے بچوں کی طرح ہیں۔انہوں نے کہاعمران خان نے لانگ مارچ ایک دن آگے بڑھا دیا تاہم اس حوالے سے شاہ محمود قریشی لاعلم نظر آئے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایف آئی آر درج نہ کرنے کے معاملے پر آئی جی پنجاب کسی کو بھی مطمئن نہ کر سکے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ عمران خان فی الحال چل نہیں سکتے اس لیے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کا کہنا ہے لانگ مارچ پرسوں سے شروع ہو گاشاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کی ہدایت پر ہی لانگ مارچ کل سے دوبارہ شروع کرنے کا کہہ رہا ہوں، لانگ مارچ اسی جگہ سے دوبارہ شروع کیا جائے گا جہاں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ پرویز الہیٰ ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں کہ پنجاب عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے، علاوہ ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے سابق وزیرِ اعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی ہے۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران لانگ مارچ کے اگلے مرحلے اور وزیر آباد حملے کی ایف آئی آر کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔دوسری جانب چوہدری پرویز الہٰی کے صاحبزادے اور ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا کہنا ہے کہ پولیس کو پولیس کی مدعیت میں عمران خان پرقاتلانہ حملے کی اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرنے سے روکا ہے