
غزہ پر 70 ہزار ٹن اسرائیلی بم گرانے جانے کا انکشاف، دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے تقریباً 4.6 گنا زیادہ اسرائیل گزشتہ برس اکتوبر سے اب تک غزہ پر 70 ہزار ٹن سے زیادہ بم گرا چکا ہے جوکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈریسڈن، ہیمبرگ اور لندن پر کی گئی مجموعی بمباری سے کہیں زیادہ ہے۔’یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر’ کے تخمینے کے مطابق 7 اکتوبر سے 24 اپریل تک 6 ماہ کے عرصے کے دوران غزہ پر تقریباً 70 ہزار ٹن سے زائد بم گرائے گئے۔نیویارک ٹائمز کے آرکائیوز سمیت مختلف اندازوں کے مطابق جنگ عظیم کے دوران جرمنز نے لندن پر بمباری کی تھی اور 1940 سے 1941 کے دوران تقریباً 18 ہزار 300 ٹن بم گرائے۔ہیمبرگ یونیورسٹی میں ہسٹری ڈپارٹمنٹ کے ریسرچ فیلو ہینڈرک التھوف نے کہا کہ اتحادیوں نے 1943 میں ہیمبرگ پر ساڑھے 8 ہزار ٹن بم گرائے تھے۔تاریخی اعدادوشمار کے مطابق اتحادیوں نے فروری 1945 میں ڈریسڈن پر بھی 3 ہزار 900 ٹن بم گرائے تھے، مجموعی طور پر یہ تعداد 30 ہزار 700 بنتی ہے۔اسرائیل گزشتہ برس اکتوبر سے اب تک غزہ پر 70 ہزار ٹن سے زیادہ بم گرا چکا ہے جوکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈریسڈن، ہیمبرگ اور لندن پر کی گئی مجموعی بمباری سے کہیں زیادہ ہے۔’یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر’ کے تخمینے کے مطابق 7 اکتوبر سے 24 اپریل تک 6 ماہ کے عرصے کے دوران غزہ پر تقریباً 70 ہزار ٹن سے زائد بم گرائے گئے۔نیویارک ٹائمز کے آرکائیوز سمیت مختلف اندازوں کے مطابق جنگ عظیم کے دوران جرمنز نے لندن پر بمباری کی تھی اور 1940 سے 1941 کے دوران تقریباً 18 ہزار 300 ٹن بم گرائے۔ہیمبرگ یونیورسٹی میں ہسٹری ڈپارٹمنٹ کے ریسرچ فیلو ہینڈرک التھوف نے کہا کہ اتحادیوں نے 1943 میں ہیمبرگ پر ساڑھے 8 ہزار ٹن بم گرائے تھے۔تاریخی اعدادوشمار کے مطابق اتحادیوں نے فروری 1945 میں ڈریسڈن پر بھی 3 ہزار 900 ٹن بم گرائے تھے، مجموعی طور پر یہ تعداد 30 ہزار 700 بنتی ہے۔